Jun ۰۲, ۲۰۱۸ ۱۴:۵۹ Asia/Tehran
  • سعودی عرب میں معزولیاں اور تقرریاں

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہفتے کے روز نئی کونسلوں کی تشکیل اور نئے وزارت خانوں کے قیام کے ساتھ ساتھ بہت سی معزولیوں اور تقرریوں کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزارت ثقافت و اطلاع رسانی کا نام تبدیل کرکے وزارت اطلاع رسانی رکھ دیا ہے اور شیخ عبداللطف الشیخ کو وزیر اسلامی امور مقرر کردیا ہے۔ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ایک اور حکم کے ذریعے وزیر محنت علی بن ناصر الغفیض کو ان کے عہدے سے برطرف اور احمد بن سلیمان بن عبدالعزیز الراجحی کو ان کی جگہ مقرر کردیا ہے۔لیکن سب سے اہم تقرری خالد بن صالح السطان کی ہے جنہیں ملک کے ایٹمی انرجی سٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ بن صالح امریکہ کی میشگن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور سعودی عرب کے سب سے جواں ترین عہدیدار شمار ہوتے ہیں اور شاہی خاندان کے کھوسٹ عہدیداروں کے مقابلے میں ان کی سوچ میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔سعودی عرب کے بادشاہ نے مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات کے انتظام کے لیے بھی ایک نئی کمیٹی کے قیام کا حکم دیا ہے اور ولی عہد محمد بن سلمان کو اس  کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے جس کا مقصد مقدس شہروں کا انتظام براہ راست ان کے اختیار میں دینا ہے۔سعودی شاہی خاندان میں اقتدار کی جنگ روز بروز وسیع تر ہوتی جارہی ہے اور بار بار کی معزولیاں اور تقرریاں اسی کا نتیجہ ہیں جن سے سعودی عرب میں سیاسی عدم استحکام اور فیصلہ سازی کے بحران کی نشاندھی ہوتی ہے۔اسی دوران اطلاعات ہیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اکیس اپریل کو شاہی محل کے قریب پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد سے سخت خوفزدہ ہیں اور اس واقعے نے ان کے فیصلوں پر بھی اپنا گہرا اثر دکھایا ہے۔روزنامہ رائے الیوم کے مطابق مغربی ذرائع نے محمد بن سلمان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بادشاہ بننے تک اپنی جان کی خاطر منظر عام پر آنے اور اشتعال دلانے والے احکامات سے گریز کریں۔سعودی شاہی خاندان کے معاملات سے آگاہی رکھنے والے ایک شخص نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ محمد بن سلمان شاہی محل کے قریب پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے سے بے انتہا خوف میں متبلا ہیں۔دوسری جانب فیشن میگزین ووگ کے عربی ایڈیشن کے سرورق پر سعودی شہزادی کی تصویر کی اشاعت نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سعودی شہزادی   لیدر کے دستانے پہنے ہوئے ہیں اور وہ سفید رنگ کی عبائے میں دکھائی دے رہی ہیں۔سابق بادشاہ عبداللہ کی بیٹی شہزادی حیفا بنت عبداللہ السعود کی تصویر کو ووگ کے عربی شمارے نے ایسے وقت میں شائع ہوئی جب حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی متعدد سعودی خواتین کو گرفتار کیے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔سعودی وزارت داخلہ کے مطابق بائیس مئی کو حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی کم سے کم دس خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان خواتین پر ملک میں خواتین کی آزادیوں کو محدود کرنے والے قوانین پر اعتراض کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر متعدد خواتین و دیگر عرب لوگوں کا کہنا تھا کہ ’ووگ‘ کو کسی شہزادی کے بجائے خواتین کو ڈرائیونگ کے حقوق دلانے کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی تصویر کو سرورق کی زینت بنانا چاہیے تھا۔

ٹیگس