• یمن پرسعودی عرب کا کلسٹر بموں سے حملہ

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن پر اپنی وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جمعرات کو ایک بار پھر شمالی صوبے صعدہ کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی -

یمن کے ٹیلی ویژن چینل المسیرہ نے خبردی ہے کہ سعودی عرب کے بمبار طیاروں نے صوبہ صعدہ کے شہر کتاف کے محلے خضوان کے رہائشی مکانات  پر ممنوعہ کلسٹر بموں سے حملہ کیا - پچھلے برسوں کے دوران سعودی عرب کے بمبار طیاروں نے صوبہ صعدہ پر بارہا کلسٹربم برسائے ہیں -

سعودی عرب نے یمن کے عوام کو گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کرنے کے لئے یمن میں غیر قانونی ہتھیاروں منجملہ کلسٹر اور فاسفورس بموں کا استعمال کیا ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمنی عوام کو جھکنے پر مجبور نہیں کرسکے ہیں - امریکا اور برطانیہ کے ذریعے سعودی عرب کو کلسٹربموں کی فروخت اور ان بموں کا یمن کے نہتے اور بے گناہ شہریوں پر استعمال ایک ایسے وقت جاری ہے جب دوہزار آٹھ میں کلسٹرہتھیاروں کے کنونشن کے تحت ان بموں کا استعمال غیر قانونی قراردیا گیا تھا -

دوسری جانب متحدہ عرب کی مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر نے اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یمنی فوج کے ساتھ تازہ لڑائی میں اس کے چار فوجی ہلاک ہوگئے ہیں - متحدہ عرب امارات کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی یمن کے شہر الحدیدہ میں مارے گئے ہیں - اس درمیان یمن کی فوج نے کہا ہے کہ الحدیدہ شہر کا دفاع اور شہر کے اندر جارح قوتوں کے داخل ہونے کو روکنے کے لئے وہ پوری طرح تیار ہے - یمنی فوج کے ترجمان شرف لقمان نے کہا ہے کہ یمنی فوج الحدیدہ شہر پرجارح فوج کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے- ان کا کہنا تھا کہ اگرسعودی عرب اور اس کی اتحادی فوجوں نے الحدیدہ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس شہر کو ان کے لئے دلدل اور جارح فوجوں کے قبرستان میں تبدیل کردیا جائے گا - یمنی فوج کے ترجمان نے الحدیدہ شہر کے خلاف جارح قوتوں کی کارروائیوں کا ذمہ دار امریکا کو قراردیا اور کہا کہ جارح سعودی فوج یمن میں میزائل بنانے والے کارخانے تک پہنچنے کی توانائی نہیں رکھتی -

ادھر بچوں کی حامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے الحدیدہ میں ممکنہ طور پر انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انسان دوستانہ امداد کی رسائی کو بحال رکھنے کے لئے الحدیدہ بندرگاہ کی سرگرمیاں جاری رہنے پر زور دیا ہے - یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹین گریفتھس نے  بھی الحدیدہ میں لڑائیوں کے جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ اقوام متحدہ کشیدگی کو کم کرانے کے لئے سبھی فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے -

واضح رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فوجوں نے یمن کی الحدیدہ بندرگاہ پر قبضہ کرنے کے لئے پچھلے ایک مہینے سے اپنی جارحانہ کارروائی  شروع کررکھی ہے - الحدیدہ بندرگاہ اس وقت یمن کے مظلوم اور محصور عوام تک انسان دوستانہ امداد پہنچنے کا واحد راستہ ہے -

 

ٹیگس

Jun ۱۴, ۲۰۱۸ ۱۷:۴۳ Asia/Tehran
کمنٹس