• الحدیدہ ایئرپورٹ پر قبضے کی خبروں کی تردید

یمن میں الحدیدہ کے ڈپٹی گورنر عبدالجبار احمد محمد نے سعودی اتحاد کے جانبدار ذرائع ابلاغ کی جانب سے کئے جانے والے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ الحدیدہ شہر پر سعودی اتحاد کی افواج کا قبضہ ہو گیا ہے۔

سعودی اتحاد نے حال ہی میں یہ افواہ پھیلائی تھی کہ الحدیدہ کے ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے جس کے بعد خبر چھوٹی ثابت ہونے پر اسے خاصی ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور اب پھر اس اتحاد کی جانب سے اس قسم کے دعوے کئے جا رہے ہیں کہ الحدیدہ ایئرپورٹ پر سعودی اتحاد کا کنٹرول ہو گیا ہے۔

یمن میں الحدیدہ کے ڈپٹی گورنر عبدالجبار احمد محمد نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی اتحاد کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے کئے جانے والے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ الحدیدہ شہر پر سعودی اتحاد کی افواج کا قبضہ ہو گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس قسم کی افواہ پھیلائے جانے کا مقصد لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا ہے۔

عبدالجبار احمد محمد نے کہا کہ الحدیدہ ایئرپورٹ اس وقت بھی یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے کنٹرول میں ہے اور ایئرپورٹ کے اطراف کے علاقوں میں دشمنوں کو بھاری شکست ہوئی ہے جہاں سعودی اتحاد کی، درجنوں فوجی و بکتربند گاڑیاں تباہ کر دی گئی ہیں اور دسیوں فوجیوں کو قیدی بھی بنا لیا گیا ہے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے الحدیدہ میں الجبیلہ کے علاقے میں سعودی اتحاد کے ٹھکانوں پر حملہ کر کے الجبیلہ کے دو علاقوں سے سعودی اتحاد کے فوجیوں کا صفایا بھی کر دیا۔

یمنی فوج نے صوبے حجہ میں صحرائے میدی میں بھی سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور کافی نقصان پہنچایا۔اسی اثنا میں یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے رکن محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ الحدیدہ کا ایئرپورٹ مکمل طور پر یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے کنٹرول میں ہے اور صرف ایئرپورٹ کے علاقے میں ہی نہیں بلکہ ساحل پر بھی گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے اور اس جنگ میں یمنی قوم کی مکمل کامیابی کا یقین ہے۔انھوں نے کہا کہ دشمنوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا جبکہ اس جنگ میں سعودی اتحاد کےبہت سے فوجی   کمانڈر  مارے جا رہے ہیں۔دریں اثنا پریس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے فوجی افسر جنوبی یمن میں قائم جیل میں قیدیوں کو ایذائیں پہنچارہے ہی اور ان قیدیوں کو جنسی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ان ذرائع نے ایسی تصاویر بھی شائع کی ہیں جن میں ان قیدیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جنھیں متحدہ عرب امارات کے فوجی افسر شکنجے دے رہے ہیں۔

ادھر ملائیشیا کے نئے وزیر دفاع نے یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے لئے اس ملک میں اپنے ملک کے فوجیوں کی موجودگی پر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دیئے جانے کی کوئی معقول اور منطقی وجہ نہیں پائی جاتی۔

 

ٹیگس

Jun ۲۱, ۲۰۱۸ ۱۵:۰۰ Asia/Tehran
کمنٹس