• سعودی دارالحکومت پر یمنی فوج کے میزائلی حملے

ایک ایسے وقت جب یمن کے مغربی شہر اور مغربی بندرگاہ الحدیدہ پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے وحشیانہ حملے پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں یمنی فوج نے ریاض میں شاہی دربار سے وابستہ کئی ٹھکانوں اور وزارت دفاع کے انفارمیشن سینٹر پر میزائل سے حملہ کیا ہے -

یمن کے مغربی شہر اور مغربی بندرگاہ الحدیدہ پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اور ان کے اتحادیوں کے حملے گذشتہ تیرہ جون سے شروع ہوئے ہیں- اس درمیان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے الحدیدہ کی جنگ میں بیک وقت دو اسٹریٹیجی اپنا رکھی ہے- ایک اسٹریٹیجی فوجی جنگ کی اور دوسری تشہیراتی جنگ کی ہے اور ان دونوں ہی اسٹریٹیجی کا مقصد الحدیدہ پر قبضہ کرنا اور یمن کا محاصرہ مکمل کرلینا ہے - آل سعود نے بھی اس مقصد کے حصول کے لئے الحدیدہ کے خلاف جنگ کی کمان متحدہ عرب امارات کو سونپ دی ہے تاکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اختلافات کو کم کرے - آل سعود اور اس کے اتحادیوں کے ذریعے اس جنگ میں تشہیراتی جنگ کا بھی بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جس کے دوران الحدیدہ ہوائی اڈے پرقبضے کا جھوٹا دعوی  اس میڈیا وار کا ایک بڑا موضوع ہے - ان تمام باتوں کے  باوجود سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات الحدیدہ کی جنگ میں اپنے متعین کردہ اہداف کو حاصل کرنے میں ابھی تک ناکام رہے ہیں -  جارح قوتوں اور اتحاد کی اسٹریٹیجی کے مقابلے میں یمنی فوج نے بھی دو حکمت عملی اپنا رکھی ہے ایک استقامت اور دوسری میزائلی حملہ - یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک بدرالدین الحوثی نے الحدیدہ میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جنگ کے مقاصد کا پردہ فاش کرتے ہوئے یمنی عوام سے کہا ہے کہ وہ اس حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور الحدیدہ میں عوامی فورس زیادہ سے زیادہ تعداد میں پہنچے - الحدیدہ میں بڑے پیمانے پر عوامی فورس کے پہنچ جانے کی وجہ سے اس علاقے میں سعودی عرب اور اس کےاتحادیوں کی زمینی جنگ ناکام ہوگئی ہے اور سعودی اتحاد ابھی تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کرسکا ہے - اس درمیان استقامت اور پامردی کی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اسٹریٹیجک ٹھکانوں پر یمنی فوج کے میزائلی حملے بھی جاری ہیں اور اس وقت سعودی دارالحکومت ریاض یمنی فوج کے میزائلی حملوں کا نشانہ ہے - دریں اثنا یمنی فوج کے میزائل یونٹ نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کی رات ریاض میں سعودی عرب کے فوجی اور حکومتی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے دوران سبھی میزائل اپنے نشانے پر جاکر لگے - یمنی فوج کے میزائلی حملے سے ریاض میں لوگوں میں زبردست خوف و ہراس کا ماحول تھا - ان میزائلی حملوں سے جہاں یہ ثابت ہوگیا کہ ریاض یمنی فوج کے میزائل کی زد پر ہے اور سعودی عرب کے دیگر علاقوں پر بھی میزائل داغے جاسکتے ہیں وہیں یہ بھی واضح ہوگیا کہ دوسری جانب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ذریعے جنگ میں شدت پیدا کرنے سے یمنی فوج اور عوامی رضاکارفورس کو جھکنے پر مجبورنہیں کیا جاسکتا بلکہ استقامت اور پامردی کے لئے ان کے عزم و حوصلے اور زیادہ بلند ہوں گے -

 

Jun ۲۵, ۲۰۱۸ ۱۴:۲۹ Asia/Tehran
کمنٹس