• شام میں جعلی کیمیائی حملے کے مناظر فلمانے کا انکشاف

شام میں روس کے قائم کردہ آشتی مرکز نے وائٹ ہیلمٹ گروہ اور دہشت گردوں کی تیارہ کردہ نو ایسے شارٹ فلمائے جانے کا انکشاف کیا ہے جس میں شامی پناہ گزینوں کو استعمال کرتے ہوئے ادلب میں کیمیائی حملے کا جعلی سیناریوں تیار کیا گیا ہے۔

شام میں روس کے قائم کردہ آشتی مرکز کا کہنا ہے کہ وائٹ ہیلمٹ گروپ کے عناصر نے امریکی اور عرب چینلوں کے ہمراہ ادلب میں جعلی کیمیائی حملے کی فلم بندی میں حصہ لیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق وائٹ ہیلمٹ گروہ اور دہشت گردوں کے اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام ایک بار پھر شام کی حکومت پر عائد کیا جا‏ئے۔
 روسی آشتی مرکز کی رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے دہشت گردوں نے متعدد شامی پناہ گزینوں کو کیمپوں سے اغوا بھی کر لیا ہے تاکہ انہیں کیمیائی حملے کے ڈرامہ میں استعمال کیا جا سکے۔
 روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخا رووا نے بھی کہا ہے کہ امریکہ شام پر نئی جارحیت کے لیے عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
 انہون نے کہا کہ امریکہ، شام پر حملے کے لیے رائے عامہ کو آمادہ کرنے کی غرض سے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے حتی جعلی فلم سازی سے بھی گریزاں نہیں ہے۔
 روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ شام میں جعلی کیمیائی حملے کا ڈرامہ رچانے کے لیے دہشت گردوں اور وائٹ ہیلمٹ گروپ کے اقدامات کے بارے میں حقائق سامنے آنے کے باوجود ادلب میں جعلی کیمیائی حملے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے لازمی اقدامات انجام دیئے جا رہے ہیں۔
 ماریا زاخارووا نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی شام میں دہشت گردوں کی شکست سے خوفزدہ ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ دہشت گردوں کو باقی رکھ کر شام میں جاری جھڑپوں کو مصنوعی طریقے سے طول دے دیا جائے۔
 ادلب، شمال مغربی شام کا ایک صوبہ ہے جس پر دہشت گردوں نے بدستور قبضہ کر رکھا ہے اور شامی فوج اس علاقے کو داعش اور جبہت النصرہ کے دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔
 شام کا بحران سن دو ہزار گیارہ میں اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ، سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادی ملکوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں نے شام کی قانونی حکومت کو ختم کرنے کے لیے مسلح کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے شروع کردہ اس ڈرامے کا مقصد خطے کے حالات کو اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنا تھا۔

Sep ۱۴, ۲۰۱۸ ۱۵:۰۴ Asia/Tehran
کمنٹس