• ترک حزب اختلاف کا حکومت کو سخت انتباہ

ترک حزب اختلاف کے ایک رہنما نے خبردار کیا ہے کہ شام کے حصے بخرے ہونے کی صورت میں ترکی کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

ہمارے نمائندے کے مطابق ترکی کی رپبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ اور حزب اختلاف کے رہنما کمال قلیچ دار اوغلو نے اپنے ایک بیان میں شام کے بارے میں انقرہ کی پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اردوغان حکومت کی موجودہ پالیسیوں سے شام کی ارضی سالمیت میں کوئی مدد نہیں ملے گی لہذا اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے خـبردار کیا کہ شام کے حصے بخرے ہونے کی صورت میں ترکی کی سلامتی اور معیشت، دونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
کمال قلیچ دار اوغلو نے ادلب کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کو وقت ضائع کیے بغیر شام کی مرکزی حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنا چاہئیں، کیونکہ شام کی ارضی سالمیت ہمارے ملک کی بقا  کے لیے انتہائی اہم اور حیاتی ہے۔
 قابل ذکر ہے کہ ترک حزب اختلاف کی جانب سے شام کے بارے میں انقرہ کی  موجودہ پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

Sep ۱۶, ۲۰۱۸ ۱۹:۱۰ Asia/Tehran
کمنٹس