• پوری دنیا کے خلاف ٹرمپ کی جنگ

جنوری دوہزار سترہ میں ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بین الاقوامی میدان میں امریکی صدر کی پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے بے پناہ مسائل و مشکلات اور کشیدگی پیدا ہوگئی ہے

ٹرمپ نے بارہا امریکا کے دوستوں اور دشمنوں سب کو شدید ترین تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور ان پر سخت ترین حملے کئے اور اسی لئے مشرقی ایشیا کے ملکوں کے ساتھ امریکا کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی جبکہ امریکا اوریورپی ملکوں کے درمیان تعلقات میں بھی بحران پیدا ہوگیاہے  - ساتھ ہی ٹرمپ نے امریکا کوبعض بین الاقوامی معاہدوں سے الگ  کرکے علاقائی اور عالمی سطح پر بھی کشیدگی پیدا کی ہے - علاوہ ازیں ٹرمپ نے خودسرانہ اور آمرانہ  پالیسیاں اپنا کراپنی مرضی اور نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی خاص طور پرتجارت کے میدان میں انہوں نے جہاں چاہا اپنی من مانی کرنے کی کوشش کی - چنانچہ امریکی صدر نے ریاست آیووا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران خطاب کرتے ہوئے دیگر ملکوں کے بارے میں اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی اور موقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے اپنے دوست اور دشمن ملکوں سبھی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر زبردست حملہ کیا -ٹرمپ نے یورپی یونین ، جرمنی ، چین ، جاپان ، جنوبی کوریا ، شمالی کوریا ، سعودی عرب اور ایران کے بارے میں اپنی حکومت کے موقف کی تکرار کی اور د یگر ملکوں کے بارے میں امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا کہ ان کی پالیسی اور موقف کی وجہ سے ایک بار پھر سبھی ممالک امریکا کو احترام کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں - انہوں نے اپنے خطاب میں یورپی ملکوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یورپی یونین ظاہر میں اچھی اورخوبصورت نظر آتی ہے  لیکن وہ بے رحم ہے- ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اسی لئے بنائی گئی ہے کہ وہ امریکا سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے - ٹرمپ نے چین کے خلاف ایک بار پھر سخت لہجہ اپنایا اور کہا کہ دونوں ملکوں کےدرمیان برسوں کے غیر منصفانہ تجارتی تعلقات کے نتیجے میں بیجنگ نے اربوں ڈالر واشنگٹن کی جیب سے نکالے ہیں لیکن جب سے میں نے امریکا کا اقتدار سنبھالا ہے  یہ سلسلہ بند ہوگیا ہے - امریکی صدر ٹرمپ جاپان اور جنوبی کوریا پر بھی جم کر برسے اور دعوی کیا کہ امریکا ان ملکوں کی حفاظت کی قیمت ادا کررہا ہے لیکن جاپان امریکا سے غلط فائدہ اٹھا رہا ہے - ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ سعودی عرب کو چاہئے کہ وہ امریکا کو پیسے دے ان کا کہنا تھا کہ ہم جو کام کررہے تھے وہ یہ تھا کہ کسی عوض اور بدلے کے بغیر دولتمند ملکوں کی حفاظت کررہےتھے - انتخابی جلسے میں ٹرمپ کے خطاب کا ایک حصہ ایران سے مخصوص تھا انہوں نے ایک بار پھر ایٹمی معاہدے سے نکلنے اور ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا- ٹرمپ کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ پوری دنیا کو امریکا کا قرضدار سمجھتےہیں - ٹرمپ کے نقطہ نگاہ سے دنیاکے بعض ممالک منجملہ چین اور یورپ نے امریکا سے غلط فائدہ اٹھایا ہے اور بعض دیگر ملکوں منجملہ اس کے علاقائی اتحادی ملکوں نے مثال کے طور پر جاپان ، جنوبی کوریا اور سعودی عرب نے امریکا سے مفت خدمات حاصل کی ہیں - دوسری جانب ٹرمپ نے ایران کے بارے میں غلط دعوؤں کی تکرار کرتے ہوئے علاقے میں ایرانو فوبیا پھیلانے کی دوبارہ کوشش کی ہے- مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تمام باتوں کےباوجود  ٹرمپ  کی پالیسیوں کے نتائج سے ایسا لگتا ہے کہ ان کی خودسرانہ اور غنڈہ گردی پرمبنی پالیسیوں اور اقدامات سے امریکا عالمی سطح پر پہلے سے زیادہ الگ تھلگ پڑتا جارہا ہے -  

 

Oct ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۷:۰۶ Asia/Tehran
کمنٹس