• سعودی ولیعہد جمال خاشقجی کے اغوا یا قتل میں ملوث

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صحافی اور امریکی رہائشی جمال خاشقجی کے خلاف آپریشن کرنے کے احکامات جاری کیے تھے

تفصیلات کے مطابق سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک ہفتے سے لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں ترکی میں سعودی کونسل خانے میں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مذکورہ کیس سے متعلق اپنی رپورٹ میں امریکی خفیہ ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد نے صحافی جمال خاشقجی کے خلاف آپریشن کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ صحافی جمال خاشقجی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سعودی فرماںروا سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے اقتدار کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

امریکی اخبار نے امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کا نام بتائے بغیر بتایا کہ خاشقجی کے بارے میں یہ اطلاعات تھیں کہ سعودی عرب ان کو لالچ دے کر قید کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اخبار کا یہ بھی کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کے دوستوں کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے صحافی سے رابطہ کر کے پیشکش کی تھی کہ اگر وہ واپس سعودی عرب آجائیں تو انہیں حفاظت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سرکاری نوکری بھی دی جائے گی تاہم خاشقجی نے اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا کیونکہ انہیں اس پر شک تھا۔

در ایں اثناء ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر خاموش رہنا ممکن نہیں، یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے۔

ترکی کے صدر نے ہنگری سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے سعودی صحافی کی گمشدگی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کے ہر پہلو کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

انہوں نے سعودی قونصلیٹ کے صحافی کی واپسی کی فوٹیج نہ ہونے کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ سعودی قونصلیٹ کے باہر کوئی کیمرہ سسٹم نہ ہو۔

واضح رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو ترکی میں واقع سعودی قونصلیٹ میں داخل ہونے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

ٹیگس

Oct ۱۲, ۲۰۱۸ ۰۸:۱۷ Asia/Tehran
کمنٹس