• صحافی گمشدگی کا معاملہ، سعودی اور ترک سربراہوں کا ٹیلی فونی رابطہ

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ٹیلی فونی گفتگو میں سعودی حکومت کی پالیسیوں کے مخالف صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی اورممکنہ قتل کیس کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی واس نے خبردی ہے کہ سعودی بادشاہ نے اس ٹیلی فونی گفتگو میں بظاہر خاشقجی کے معاملے میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے پر ترکی کی آمادگی پر شکریہ ادا کیا ہے۔  شاہ سلمان نے ترکی کو دوست اور برادر ملک قراردیا اور کہا کہ ریاض انقرہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم اور فروغ دینا چاہتا ہے۔ خبروں کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بھی اس ٹیلی فونی گفتگو میں سعودی عرب کے ساتھ ترکی کے تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی۔
سعودی حکومت کے مخالف صحافی خاشقجی کی استنبول میں سعودی قونصل خانے میں گمشدگی کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ جب سعودی عرب اور ترکی کے سربراہان مملکت نے کوئی رابطہ کیا ہے۔
اس درمیان سعودی عرب کے ٹیلی ویژن چینلوں نے اپنے ہم آہنگ اقدام کے تحت اس بات کی کوشش ہے کہ جمال خاشقجی کے معاملے میں سعودی عرب پر پڑنے والے بین الاقوامی دباؤ کو کم کریں۔ العربیہ ٹیلی ویژن چینل نے خاص پروپیگنڈہ مہم میں اپنے ناظرین کو متاثر کرنے کے لئے اعلان کیا کہ اردن خاشقجی کے معاملے میں سعودی عرب کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کے مقابلے میں ریاض کی حمایت کرتا ہے۔
العربیہ ٹیلی ویژن چینل نے کہا کہ عرب لیگ اور عرب پارلیمان نے بھی سعودی عرب کے خلاف کسی بھی طرح کی تادیبی کارروائی یا پابندی کے نفاذ کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
سعودی عرب کے الاخباریہ ٹیلی ویژن چینل نے بھی خبردی ہے کہ موجودہ صورتحال میں جب جمال خاشقجی کے معاملے میں سعودی عرب پر دباؤ پڑ رہا ہے متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی حکومت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور علاقےمیں سعودی عرب کی ساکھ اور پوزیشن کو متاثر نہیں ہونے دے گا۔
لیکن اس درمیان جوشخص ایران کے ساتھ سعودی عرب کے خود ساختہ بحران کے دوران ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف زہر اگلتا رہا اور قطرکے ساتھ سعودی عرب کے اختلاف اور تنازعے میں بھی جس نے قطر کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کئےتھے وہ آج جب آل سعود انتہائی بحرانی دور سے گذر رہی ہے یعنی سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نگاہوں سے غائـب ہیں اور ان کا کوئی بیان سامنے نہیں آرہا ہے ۔
گذشتہ دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں سعودی حکومت کی پالیسیوں کے نقاد جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے بعد سے اب تک اس اہم موضوع پر سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا جبکہ استنبول میں سعودی عرب کا قونصل خانہ جہاں سے جمال خاشقجی لاپتہ ہوئے ہیں سعودی وزارت خارجہ سے ہی وابستہ ہے۔


عادل الجبیر کہاں ہیں ؟ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت بہت سے سیاسی ماہرین اور سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کے ذہنوں میں پیدا ہورہا ہے۔ خاشقجی کے معاملے پر پیدا ہونے والے غیر معمولی سیاسی بحران کے بعد سے عادل الجبیر کا کوئی بیان سامنے نہ آنا اور پورے معاملے میں ان کی طویل غیر حاضری سب کے لئے اچنبھے کی بات ہے جبکہ عادل الجبیر اپنی عادت کے مطابق کسی بھی مسئلے میں اپنا نظریہ بیان کرنے سے خواہ وہ کتناہی معمولی ہی کیوں نہ ہو کبھی بھی پیچھے نہیں رہتے تھے۔
خاشقجی کا معاملے سامنے آنے کے بعد سے سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر ایسا غائب ہیں کہ انہیں کہیں بھی میڈیا کے سامنے بھی نہیں دیکھا گیا جبکہ یہ معاملہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے اورسعودی عرب کی حکومت پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ سعودی صحافی خاشقجی کا اس نے ہی قتل کروایاہے۔

ٹیگس

Oct ۱۵, ۲۰۱۸ ۱۸:۲۶ Asia/Tehran
کمنٹس