Nov ۰۱, ۲۰۱۸ ۱۵:۰۶ Asia/Tehran
  • کربلائے معلی میں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس

عراق کے مقدس شہر کربلائے معلی میں امام حسین علیہ السلام چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کے شرکا اور مفکرین نے اربعین کو مسلمانوں میں اتحاد و اخوت و برادری، ظلم کی مخالفت اور انصاف پسندی کا مظہر قرار دیا ہے۔

عراق کے مقدس شہر کربلائے معلی میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کے حرم مطہر کے سیدالاوصیا ہال میں المصطفی ادارے کی کوشش و تعاون سے دنیا کے مختلف ملکوں کے مفکرین اور دانشوروں کی شرکت سے  امام حسین علیہ السلام کے زیرعنوان چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔اس کانفرنس میں ایران، عراق، فرانس، امریکہ اور پاکستان کے مفکرین اور دانشوروں نے دنیا بھر کے حریت پسندوں اور مظلوموں پر اربعین اور تحریک حسینی کے اثرات اور زیارت اربعین کے اخلاقی، ثقافتی، عقیدتی اور معنوی پہلوؤں پر تقریریں کیں اورکہا کہ اربعینی حسینی، انسانوں کو راہ حق و حقیقت اور فلاح و سعادت پرپہنچانے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔

کانفرنس کے شرکا نے مختلف ادیان و مذاہب کے پیروکاروں میں یکجہتی اور ہمدردی پیدا کرنے میں اربعین کے اجتماع کوغیرمعمولی اہمیت کا حامل قراردیا اورکہا کہ حسینی تحریک کے اہداف اورنواسہ رسول کی سیرت کو نمونہ عمل بنائے جانے کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور اربعین حسینی کے پیدل مارچ اور زیارت اربعین کے پیش نظر یہ عمل عالمگیر ہوتا جا رہا ہے۔

کربلا کانفرنس میں شریک فرانسیسی مفکر محترمہ مارگارتا ماریا نے کہا کہ اربعین حسینی مسلمانوں کے لئے استقامت کا نمونہ اور عالمی استکباراوران تمام ملکوں کے مقابلے میں جو صرف اپنے مفادات کے درپے ہیں متحد ہونے کا بہترین موقع ہے ، دریں اثنا ایران سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کے زائرین نے جو پیدل چل کر منگل کے روز کربلائے معلی میں بین الحرمین پہنچے تھے، ایک بار پھر فرزند رسول اور آسمان امامت و ولایت کے تیسرے درخشاں ستارے حضرت امام حسین علیہ السلام کی راہ اور امنگوں سے تجدید پیمان کیا۔

کربلائے معلی میں حسینی متوالوں کا اتنا بڑا پرامن اجتماع اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ قیام امام حسین علیہ السلام کی راہ بدستور جاری ہے اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی دشمنوں کی سازش کبھی بھی کامیاب نہیں ہو گی۔

ٹیگس

کمنٹس