اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر گریٹ کیپلیئر کا کہنا ہے کہ یمن کی جنگ، صورت حال کو مزید ابتر بنا رہی ہے کیونکہ عرب دنیا کی یہ غریب ترین قوم پہلے ہی خراب حالات میں جی رہی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے ایک مہینے کے اندر امن بات چیت شروع کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اگلے 30 دن امداد کی تقسیم اور زندگیاں بچانے کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ 2015 سے 6 ہزار سے زیادہ بچے یا تو شہید کیے جا چکے ہیں یا وہ شدید زخمی ہیں۔ یہ وہ تعداد ہے جو ہماری گنتی میں آئی لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت  سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔

 سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے  لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔

ٹیگس

Nov ۰۸, ۲۰۱۸ ۰۹:۰۳ Asia/Tehran
کمنٹس