• سعودی صحافی کی لاش کو تیزاب میں تحلیل کرنے کا انکشاف

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی لاش سے متعلق ترک اٹارنی جنرل آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی قونصل جنرل کے گھر کے کنویں سے ہائیڈرو فلورک ایسڈ سمیت دیگر کیمیائی اجزا کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی قونصل جنرل محمد العُتیبی کی رہائش گاہ کے ایک کمرے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑوں کو تیزاب میں تحلیل کیا گیا تھا۔

ترک تفتیش کاروں نے جمال خاشقجی کے قتل کے دو ہفتے بعد قونصل جنرل کی رہائش گاہ کی تلاشی لی تھی۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دو ہفتوں کے دوران جمال خاشقجی کی لاش کا نام و نشان مٹانے کے لیے تیزاب کا استعمال کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران سی آئی اے کے سابق ملازم ایڈورڈ اسنوڈن نے انکشاف کیا تھا کہ ایسا ممکن ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل میں اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ ٹیکنالوجیز کے سافٹ ویئر نے کردار ادا کیا ہو۔

انہوں نے بتایا کہ جمال خاشقجی کے ایک دوست عمرعبدالعزیز جلا وطنی کے بعد کینیڈا میں مقیم ہیں، ان کے فون میں این ایس او کا جاسوسی سافٹ ویئرپیگاسس موجود تھا۔

ایڈورڈ اسنوڈن کا کہنا تھا کہ اس سافٹ ویئر کی مدد سے سعودی عرب کو عبدالعزیز کے ذریعے جمال خاشقجی سے متعلق معلومات جمع کرنے میں مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی یہ جانتے تھے کہ جمال خاشقجی قونصل خانے جا رہے تھے کیونکہ انہیں بلایا گیا تھا ۔

 3نومبر کو ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مشیر نے انکشاف کیا تھا کہ جمال خاشقجی کو قتل کرنے والوں نے ان کی لاش ٹھکانے لگانے کے لیے لاش کے ٹکڑے تیزاب میں تحلیل کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل کرنے والوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ لاش کی باقیات کا نام و نشان تک مٹا دیا جائے۔

خیال رہے کہ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھےتاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا جبکہ دریں اثناء 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

ٹیگس

Nov ۰۹, ۲۰۱۸ ۰۸:۵۸ Asia/Tehran
کمنٹس