• یمن سے سوئیڈن امن مذاکرات توقعات اور خدشات

سوئیڈن میں ہونے والے یمن سے متعلق امن مذاکرات میں انصاراللہ کے وفد کے سربراہ عبدالسلام نے مذاکراتی عمل کی تازہ ترین صورتحال پربریفنگ دی ہے۔

سوئیڈن میں ہونے والے یمن امن مذاکرات میں انصاراللہ کے وفد کے سربراہ عبدالسلام نے مذاکراتی عمل کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بحران یمن کے حل کے لئے بین الاقوامی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے - مذاکرات میں شامل یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے کہاکہ انسانی مسائل، صنعا ہوائی اڈے کو کھولا جانا اور اختلافات میں اقتصادی معاملات کو دخیل نہ کرنا نیز سیاسی معاملات وہ موضوعات ہیں جن پر اس دور کے مذاکرات میں غور کیا جارہا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ جارح قوتوں کی جیلوں میں قید یمنی قیدیوں کا یمنی فوج کی قید میں اسیر جارح قوتوں کے قیدیوں سے تبادلے کا معاملہ بھی ان مذاکرات میں شامل تھا۔ان کا کہنا تھا ہماری مذاکراتی ٹیم اس بات کی منتظر ہے کہ یمن پر جارحیت کرنے والے ممالک اپنی جیلوں میں بند یمنی قیدیوں کی فہرست ہمارے حوالے کریں۔
انصاراللہ کے وفد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جنگ کے مختلف محاذوں پر جارح قوتوں کے حملوں میں شدت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ جارح قوتیں اور ان کے کرائے کے اتحادی کسی حل تک پہنچنے میں دلچسپی نہیں رکھتےاور جارحیت میں یہ شدت مذاکرات ک میز پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ ہمارا مقابل فریق سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ وہ خود کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا بلکہ انہیں باہر سے ڈکٹیٹ کیا جاتا ہے۔ یمنی وفدکے سربراہ نے کہا کہ یمن کے وفد کا نظریہ آزادانہ اور یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے موقف کے دائرہ کار میں ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ دنیا کی دیگر حکومتیں سعودی عرب کے ساتھ اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر اس سے بات کررہی ہیں جبکہ ہمارا کردار عالمی رائے عامہ کومتاثر کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ہاتھ صلح کے لئے بڑھائے ہوئے ہیں اور دوسراہاتھ جارح قوتوں کے مقابلے کے لیے بندوقوں کی لب لبی پر ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صنعا سے جانے والے یمنی وفد نے مذاکرات کے دوران صنعا ہوائی اڈہ کھول دئے جانے کے عوض مغربی شہر الحدیدہ کو سعودی عرب کےحوالے کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا۔
محمد عبدالسلام کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ جارح قوتوں نے پیش کیا تھا جس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
یمن سے متعلق سوئیڈن مذاکرات دو روز قبل شروع ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے دونوں فریقوں سے کئی بارالگ الگ ملاقات کی ہے۔

Dec ۰۸, ۲۰۱۸ ۱۹:۲۸ Asia/Tehran
کمنٹس