Dec ۱۸, ۲۰۱۸ ۰۷:۱۹ Asia/Tehran
  • ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے.... ! / مقالہ

سعودی عرب کے سینئر صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا معاملہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ساتھ ہی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیز اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے لئے بھی مصیبت بن گیا ہے ۔

تینوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح یہ معاملہ میڈیا کی سرخیوں سے ہٹ جائے اور اس پر گفتگو نہ ہو لیکن یہ ان تینوں کی بد قسمتی ہی کہا جائے گا کہ  تقریبا ڈھائی مہینے کا وقت گزر جانے کے بعد بھی یہ قتل کیس میڈیا میں موجود ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اس پر بحث نہ ہو ۔ عرب میڈیا میں تو اس پر مسلسل ڈیبیٹ ہو رہی ہے جبکہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک کے بڑے میڈیا ادارے بھی اس نکتے پر خاص توجہ دے رہے ہیں کہ یہ معاملہ ٹھنڈے بستے میں نہیں جانا چاہئے ۔

خاشقجی قتل کیس پر بحث کو سرخیوں میں بنائے رکھنے میں بہت بڑا کردار ترکی کا ہے جبکہ امریکی کانگریس، انٹلیجنس اور میڈیا نے بھی اس پورے معاملے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔ سعودی عرب نے ترک صدر کو شیشے میں اتارنے کی بڑی کوشش کی۔ ترکی کو اقتصادی لالچ بھی دی گئی، سعودی عرب نے ترکی کے سامانوں کے لئے اپنے بازاروں کے دروازے پوری طرح کھولنے کا اشارہ دیا لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی ۔ سعودی عرب نے امریکی ارکان پارلیمنٹ کو بھی خریدنے کی کوشش کی ۔ امریکی میڈیا کی . امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب نے کچھ ہی دنوں میں دو کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کی رقم خرچ کر دی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا کیونکہ امریکی سینیٹ نے سعودی عرب کے خلاف دو قرارداد اکثریت سے منظور کر دی ۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے بڑی کوشش کی اور امریکا میں موجود یہودی لابیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اسرائیل کی سیکورٹی کے لئے بن سلمان کا سعودی عرب کے اقتدار میں باقی رہنا بہت ضروری ہے ۔ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کی سیکورٹی کی دہائی دی تاہم یہ ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہوئے ۔

اتوار کو ترک وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے بیان دے کر اس معاملے کو پھر سے تازہ کر دیا کہ سعودی عرب نے ترکی سے جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے سے وابستہ اطلاعات کو لے لیں لیکن اس کے پاس جو خفیہ اطلاعات ہیں ان کا انکشاف نہیں کیا ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرس سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے میں قابل یقین تحقیقات کروائیں ۔

اس سے پہلے ترک کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ اگر ترکی نے خاشقجی قتل کیس کے مسئلے کو بارہا نہ اٹھایا ہوتا تو دنیا اسے فراموش کر چکی ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی انہیں کوششوں کی وجہ سے امریکی کانگریس نے یہ قرارداد منظور کی کہ ایک خاص آدمی اس قتل کیس کا ذمہ دار ہے ۔ امریکی سینیٹ نے اپنی قرارداد میں بن سلمان کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ۔

جمال خاشقجی کے قتل کا منصوبہ بناتے وقت منصوبہ سازوں نے شاید کبھی نہ سوچا ہوگا کہ اتنے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اس لئے کہ یمن پر جنگ مسلط کرنے اور وہاں 12 ہزار سے زائد بے گناہوں کے قتل عام پر ان منصوبہ سازوں کے خلاف کوئی بڑی کاروائی نہیں ہوئی اسی لئے ان کی جرات بڑھتی گئی اور اسی جنون میں انہوں نے وہ بڑی غلطی کر دی جو ممکنہ طور پر کئی رہنماؤں کا مستقبل تباہ کر دے گی ۔

ٹیگس

کمنٹس