Jan ۱۴, ۲۰۱۹ ۱۴:۳۸ Asia/Tehran
  • سعودی اتحاد امن سمجھوتے اور جنگ بندی کی ناکامی کا ذمہ دار

جارح سعودی اتحاد کی جانب سے الحدیدہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں اور رہائشی علاقوں پر وحشیانہ حملوں کے جواب میں مختلف علاقوں پر ہونے والے یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے حملوں میں سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کو زبردست جانی اور مالی نقصان پہنچا۔

صنعا میں دفاعی اور عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جیزان کے محاذ پر جارح سعودی اتحاد کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔
دفاعی ذرائع کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے توپ خانے نے جنوبی سعودی عرب کے صوبے جیزان میں فوجی اہداف پر گولہ باری کی۔
مکمل انٹیلی جینس معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی گولہ باری میں درجنوں سعودی فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ فوجی ساز وسامان اور تنصیبات بھی تہس نہس ہو گئیں۔  
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جیزان کے علاقے جبل الدود کے مشرق کی جانب سے سعودی اتحاد کی پیشقدمی کو بھی ناکام بنا دیا۔

کہا جا رہا ہے کہ اس محاذ پر بھی سعودی اتحاد کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھاتے ہوئے پسپا ہونا پڑا۔ جبل الددو کے مشرقی علاقے پر یمنی فوج فوج کی گولہ باری میں بھی بہت سے سعودی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی نے سعودی اتحاد کو جنگ بندی کی ناکامی اور اسٹاک ہوم امن معاہدے کی شکست کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ یمن کی قومی حکومت امن کے قیام اور سیاسی عمل کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہے اور اسٹاک ہوم معاہدے پر عملدرآمد کی غرض سے اقوام متحدہ کے نمائندے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔
اعلی انقلابی کمیٹی نے سعودی اتحاد کی جانب سے الحدیدہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی اور اپنے فوجی دوبارہ تعینات کیے جانے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ یمنی دھڑوں کے درمیان سوئیڈن امن مذاکرات کے دوران تیرہ دسمبر کو طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت الحدیدہ میں اٹھارہ دسمبر سے فائربندی پر عمل شروع کیا گیا ہے تاہم سعودی اتحاد کی جانب سے فائربندی کی مسلسل خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔
الحدیدہ، سعودی جارحیت کے متاثرہ جنگ زدہ ملک یمن میں انسانی امداد کی ترسیل کا واحد راستہ شمار ہوتا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس