Feb ۲۶, ۲۰۱۹ ۱۳:۴۰ Asia/Tehran
  • ہوا وہی جو دنیا نہیں،بلکہ ایران نے چاہا!/تبصرہ

گزشتہ روز ۲۵ فروری کو شام کے صدر بشار اسد نے سامراجیت اور دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ میں ایران کی جانب سے ہونے والے تعاون کی قدردانی کے لئے،ایران کا سفر کیا اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اور صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی۔

گزشتہ روز شام کے صدر بشاراسد نے ایران کا سفر کرکے رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اور صدر مملکت ڈاکٹرحسن روحانی سے ملاقات کی۔

دوہزار گیارہ میں سامراجیت، صیہونیت، تکفیریت اور خطے کے رجعت پسند عرب ممالک نے مل کر ایران کی سرکردگی میں قائم مزاحمتی محاذ کو کچلنے کے لئے ایک مہلک و مسموم منصوبے پر عمل درآمد شروع کیا اوراس کے لئے شام کا انتخاب کیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ شام ایک ہی وقت میں جہاں غاصب صیہونی حکومت کے قریب سامراجیت اور صیہونیت کے لئے بڑا خطرہ شمار ہوتا وہیں فلسطین اور لبنان میں جاری مزاحمت کا ایک اہم حامی اور پشت پناہ بھی سمجھا جاتا اورمزاحمتی محاذ کی نمائندگی میں صیہونی ریاست کے مقابلے میں فرنٹ لائن پر تھا۔

اس مسموم منصوبے پرجب عملدرآمد شروع ہوا تو شامی قوم کو آزادی  اور انہیں بشار اسد کی تاناشاہی سے نجات دلانے کے نام پر سبھی مغربی اور یورپی ممالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو گئے اور انہوں نے شامی صدر بشار اسد کا تختہ پلٹنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ انہوں نے امریکہ کی سرکردگی میں ایک اتحاد بنا کر اپنی فوجیں بھی شام میں اتاریں اور وہاں سرگرم ملکی اور غیرملکی دہشتگردوں کی بھی بھرپور سیاسی و اسلحہ جاتی مدد کی۔

اِدھر شام کی مدد کو ایران لبنان، حزب اللہ سمیت مزاحمتی قوتیں میدان میں اتریں اور سات سال کے طویل عرصے تک دنیا اور ایران کی سرکردگی میں مزاحمتی فرنٹ کے درمیان محاذ آرائی جاری رہی مگر تمام دشمن قوتیں مل کر بھی شام کی قانونی حکومت کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں اور سیاسی و جنگی میدان میں رسوا کن شکست اٹھانے کے بعد اب یورپی و مغربی اتحاد کی فوجیں یکے بعد دیگرے شام سے باہر نکلنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

ایک طرف بشار اسد کو سرنگوں کرنے کا خواب لئے ساری دنیا اور دوسری طرف بشار اسد کی حمایت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی سرکردگی میں ڈٹا مزاحمتی محاذ!!

دنیا نے بخوبہ مشاہدہ کر لیا کہ دنیا میں داداگری دکھانے والوں کی حقیقت کیا ہے اور ان میں کتنا دم خم ہے اور ساتھ ہی عالمی برادری میں تنہا سمجھا جانے والا ایرانِ اسلامی اور مزاحمتی محاذ کس قدر طاقت و توانائی کا حامل ہے۔!

شک نہیں کہ اسلامی انقلاب کی قیادت اور ایرانی قوم نے بحران شام کے حل میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔اسی تناظر میں بشار اسد نے بحران شام کے آغاز کے بعد ایران کی جانب اپنے پہلے سفر میں قائد انقلاب اسلامی اور صدر ایران سے ملاقات کی اور انہوں نے اپنے اس سفر کا اہم مقصد ’’اسلامی جمہوریہ ایران کی قدردانی‘‘ قرار دیا۔

ٹیگس