May ۰۴, ۲۰۱۹ ۰۵:۳۷ Asia/Tehran
  • محمود عباس کی بے بسی اور فلسطینی عوام کا مستقبل + مقالہ

یہ خبریں مسلسل آ رہی ہیں کہ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس پر ان دنوں مایوسی چھائی ہوئی ہے اور انہوں نے اردن کی حکومت سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ وہ سب سے برے آپشن کے لئے بھی تیار ہو رہے ہیں، ان میں ایک آپشن مغربی کنارے کے رام اللہ شہر سے طویل مدت کے لئے باہر جانا ہے ۔

محمود عباس کا کہنا ہے کہ اس کے متعدد سبب ہیں اور سب سے بڑا سبب ہے کہ انہیں عالمی سطح اور عرب دنیا کے سطح پر پوری طرح سے حاشیہ پر ڈال دیا گیا ہے، انہیں خوف ہے کہ اسرائیل انہیں کبھی بھی رام اللہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتا ہے اور اس علاقے کے ساتھ ہی اردن کے بھی کچھ علاقوں کو اسرائیلی سرزمین قرار دے سکتا ہے۔

محمود عباس کو خوف ہے کہ فلسطینی علاقوں سے نکلالے گئے فلسطینیوں پر یہ دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ اردن کو اپنا ملک سمجھیں اور فلسطین کو فراموش کر دیں ۔

محمود عباس کا مسئلہ یہ ہے کہ ان دنوں وہ دھکیاں دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے ہیں ۔ وہ صرف دھمکی دیتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی ہماہنگی روک دیں گے اور اسرائیل کا جو اعتراف کیا تھا اسے واپس لے لیں گےاور اوسلو معاہدہ مسترد کر دیں گے ۔ محمود عباس بارہا اپنے انتظامیہ کا اجلاس کرتے ہیں اور اس کے بعد کھوکھلی دھمکیوں والے بیانات جاری کرتے ہیں ۔

ہمیں نہیں لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو پر محمود عباس کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوگا اس لئے کہ ان کو اس طرح کی کھوکھلی دھمکیاں سننے اور نظر انداز کرنے کی عادت ہوگئی ہے ۔  

نتن یاہو کو پتا ہے کہ محمود عباس رام اللہ میں ہی اسرایل کے رحم و کرم پر ہیں، ان کا فلسطین کے اندر اور باہر کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے ۔

اگر یہ خبریں صحیح ہیں کہ محمود عباس اردن کے دار الحکومت امان کے ایک محلے میں واقع اپنے عظیم الشان گھر میں قیام کی تیاری کر رہے ہیں تو اس سے ہمیں پی ایل او کے داخلی امور کے سربراہ یحیی حمودہ کی یاد آتی ہے جنہیں یہ عہدہ پی ایل او کے بانی احمد الشقیری کے استعفے کے بعد ملا تھا اور انہوں نے یہ عہدہ یاسر عرفات کے حوالے کرنے کا کام کیا تھا جو اس وقت فلسطینیوں کی مسلحانہ مزاحمت کی قیادت کر رہے تھے ۔ بس ایک بنیادی فرق ہے کہ حمودہ نے اقتدار فلسطینی مزاحمت گروہ کے حوالے کیا تھا جبکہ محمود عباس کے بارے میں پتا ہی نہیں ہے کہ وہ کس کو انتظامیہ سونپیں گے ۔

ہماری تو آرزو یہ تھی کہ محمود عباس، اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی ہماہنگی پوری طرح ختم کر دیتے اور اس کے خلاف مزاحمت شروع کرنے کا اعلان کر دیتے تاہم آرزو الگ چیز ہے اور زمینی حقیقت الگ چيز ہے ۔ یاسر عرفات کو جب پتا چل گیا تھا کہ اسرائیل کو امن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تو وہ اسی راستے پر چلے تھے اور اسی راستے پر چلتے ہوئے انہوں نے اپنی جان قربان کر دی تاہم یاسر عرفات الگ رہنما تھے اور ان کے جانشین محمود عباس الگ رہنما ہیں ۔

امریکیوں اور ڈیل آف سینچری کے بائیکاٹ کا اعلان قابل تعریف قدم ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس نتائج برآمد ہوں گے ۔ مزاحمت شروع کرنے میں جتنی تاخیر ہوگی ڈیل آف سینچری کی پوزیشن اتنی ہی مضبوط ہوگی جسے قسطوں میں نافذ کیا جا رہا ہے اور اسے امریکا نیز اسرائیل کے ساتھ ہی کچھ عرب ممالک کی حکومتوں کی جانب سے حمایت مل رہی ہے ۔ جو غدار اور خیانت کار کی موت نہیں مرنا چاہتا اسے چاہئے کہ مزاحمت کا راستہ اختیار کرے اور جتنی جلدی ہو سکے یہ راستہ اختیار کرے ۔

کیا محمود عباس اس نصیحت پر عمل کریں گے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کا امکان بہت کم ہے ۔

بشکریہ

عبد الباری عطوان

مشہور تجزیہ نگار

ٹیگس