Jun ۰۳, ۲۰۱۹ ۰۴:۵۹ Asia/Tehran
  • سازشی منصوبہ ڈیل آف سینچری اور عرب شہزادوں کو رشوت (آٹھواں حصہ)

منصوبے کا اعلان کو باقاعدہ نہیں کیا گیا تاہم اس کے بارے میں اطلاعات جان بوجھ کر لیک کی گئیں تاکہ رد عمل کا اندازہ لگایا جا سکے۔

ایک اطلاع یہ لیک ہوکر سامنے آئی ہے کہ اس منصوبے کے تحت بیت المقدس کو ہمیشہ کے لئے اسرائیل کا دار الحکومت قرار دے دیا جائے گا اور امریکا نے باقاعدہ اس کا اعلان بھی کر دیا اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل بھی کر دیا ۔

ایک اطلاع یہ لیک ہوئی کہ مغربی کنارے کے علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، ایک حصے کا انتظام اردن کے تحت ہوگا جبکہ دوسرا حصہ فلسطینیوں کے پاس رہے گا۔ یہ بھی اطلاع لیک کی گئی کہ جو فلسطینی متعدد ممالک میں یا فلسطین کے اندر پناہ گزین کی زندگی بسر کر رہے ہیں انہیں اپنے وطن اور گھر واپسی کے حق سے ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا جائے گا کیونکہ ان علاقوں پر صیہونی حکومت نے غاصبانہ قبضہ کرکے کالونیوں کی تعمیرات کرکے یہودیوں کو آباد کر دیا ہے۔

اطلاعات لیک ہوتی رہیں اور یہ بھی کہا جاتا رہا کہ کچھ ہی دنوں یا ہفتے میں ڈیل آف سینچری کا اعلان کر دیا جائے گا ۔

در ایں اثنا یہ بھی خبریں موصول ہوتی رہیں کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا وہ ڈیل آف سینچری کا اعلان معطل کر دے ۔

خود صیہونیوں کے ایک اعلیٰ ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ امریکہ نے ایک ایسا معاہدہ تشکیل دیا ہے، جس کی ترتیب میں ٹرمپ کے داماد کوشنر اور دیگر شخصیات سرگرم عمل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوشنر نے ماضی قریب میں متعدد عرب و مسلمان ممالک کے دورے کئے ہیں اور سربراہان مملکت کے ساتھ طویل قسم کے مذاکرات کرکے ان کو ڈیل آف سینچری پر قائل کیا ہے۔ حالیہ دنوں مغربی ذرائع ابلاغ سمیت عرب دنیا کے ذرائع ابلاغ میں ڈیل آف سینچری کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اس ڈیل کا باقاعدہ اعلان جون کے مہینہ میں کرنے جا رہا ہے۔ اس ڈیل کے تحت امریکہ یہ چاہتا ہے کہ مغربی ایشیائی ممالک پر صیہونی جعلی ریاست اسرائیل کا مکمل کنٹرول رہے اور اس کام کو انجام دینے کے لئے امریکہ نے ڈیل آف سینچری میں خطے کی ریاستوں کے لئے معاشی پیکج کے نام پر رشوت کا بندو بست کیا ہے۔

ڈیل آف سینچری کو تسلیم کرنے کے عوض کئی ایک شہزادوں کو بادشاہت دینے اور پہلے سے بادشاہت کے تخت پر موجود بادشاہوں کو ان کی بادشاہت کے لئے اگلے پچاس پچاس برس کی ضمانت دی گئی ہے۔ حقیقت میں ایک ایسی ڈیل ہے، جس میں پیسہ خرچ کرکے عرب حمیت اور غیرت کا سودا کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف ڈیل آف سینچری عرب دنیا کو پیسہ سے خرید رہی ہے تو دوسری طرف یہی کوشش فلسطین کے لئے کی جا رہی ہے کہ فلسطینی تحریکوں کو بھی پیسہ سے خرید لیا جائے اور فلسطین پر مکمل صہیونی تسلط قائم کر دیا جائے نیز تاریخ کے اوراق سے فلسطین نام کو حذف کرکے اسرائیل نام سے تبدیل کیا جائے۔ ڈیل آف سینچری کی سب سے بڑی اور گہری سازش یہی ہے۔

 

ٹیگس