Nov ۰۹, ۲۰۱۹ ۱۵:۰۵ Asia/Tehran
  • عراقی وزیراعظم کی مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل

عراقی وزیر اعظم نے مظاہرین سے اپنے مطالبات پرامن طریقے سے پیش کرنے اور شرپسند عناصر کی گرفتاری میں سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کی اپیل کی ہے۔

 سومریہ نیوز کے مطابق عراقی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں مظاہرین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تخریبی اقدامات کا راستہ روکیں اور ان لوگوں کو موقع فراہم نہ کریں جو ملک و ملت کو نقصان پہنچانے کے لیے گھات لگائے بیٹھے ہیں۔
ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے اس بیان میں آیا ہے کہ مظاہروں کے ساتھ ساتھ ملک کے اقتدار اعلی کو کمزور نیز عراق اور عراقی عوام کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی غرص سے کیے جانے والے دہشت گردانہ اور تخریب کارانہ اقدامات پوری طرح واضح ہیں۔
عراق میں مظاہروں کا آغاز اکتوبر کے اوائل میں ہوا تھا تاہم سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے ایام میں یہ سلسلہ رکنے کے بعد پچیس اکتوبر سے دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔
عراقی پارلیمنٹ کے انسانی حقوق کمیشن کے مطابق مظاہروں کے دوران کم سے کم دو سو پچاس افراد مارے جاچکے ہیں جن میں زیادہ تر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں۔
 
دوسری جانب عراق کی عوامی رضاکار فورس حشدالشعبی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے سیکورٹی ادارے اور حشدالشبعی کے جوان ہر حال میں ملک، مرجعیت اور قوم کے فداکار سپاہی بنے رہیں گئے مظاہرین کے ہاتھوں میں موجود عراقی پرچم کے نگہبان اور وفادار ہیں۔
عراق کی اعلی دینی قیادت کے دفتر سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا ہے کہ جسے آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے نمائندے عبدالمہدی کربلائی نے صحافیوں کو پڑھ کر سنایا ہے۔
اس بیان میں دہشت گردی کے خلاف ملک کے سیکورٹی اداروں کردار کو سراہتے ہوئے حالیہ دنوں کے دوران مظاہرین کو قتل کرنے والوں کے قانونی چارہ جوئی پر زور دیا گیا ہے۔
اس بیان میں آیا ہے کہ آج  عراقی عوام  بلاخوف و خطر پر امن مظاہرے کر رہے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف عراق کے سیکورٹی اداروں کی قربانیوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے مظاہرین کے خلاف تخریب کاری اور دہشت گردی کے خطرات کو دور کر رکھا ہے۔
عراقی ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام کے پر امن مظاہروں کو تشدد اور بلوے میں تبدیل کرنے میں عراقی عوام کے دشمنوں، امریکا، اسرائیل اور رجعت پسند عرب حکومتوں سے وابستہ انحرافی گروہوں کا ہاتھ تھا۔ عراقی عوام کے مظاہروں کو بلوے میں تبدیل کرنے میں اغیار سے وابستہ جن گروہوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے، ان میں سابق بعث پارٹی کی باقیات اور الصرخیہ نیز الیمانی گمراہ گروہوں کے نام لئے جاسکتے ہیں۔
صدام کی بعث پارٹی کی باقیات، الصرخیہ اور الیمانی گروہ عراق میں سعودی عرب، امریکا، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سے وابستہ ہیں اور انہیں کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔

ٹیگس