Nov ۱۲, ۲۰۱۹ ۱۴:۰۸ Asia/Tehran
  • فلسطینی محاذ کی میزائلی کارروائیاں، تل ابیب بھی نشانہ

فلسطین کے استقامتی گروہوں نے غزہ پٹی پر صیہونی فوجیوں کے حملے کے جواب میں شہر تل ابیب، حیفا اور غزہ کے اطراف کی یہودی کالونیوں کو وسیع پیمانے پر اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

صیہونی حکومت نے منگل کی صبح مشرقی غزہ پٹی پر حملہ کر کے جہاد اسلامی فلسطین کے ایک کمانڈر بہاء ابوالعطا اور اس کی بیوی کو شہید کردیا جبکہ اس حملے میں ان کے دوبچوں سمیت تین افراد زخمی ہوگئے جن کی حالت تشویشناک ہے۔ 
فلسطینی استقامتی گروہوں نے ایک علیحدہ بیان میں شہید ابوالعطا کے قتل کی پوری ذمہ داری غاصب صیہونی حکومت پر عائد کی ہے اور تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ صیہونیوں کے اس جرم کا ضرور جواب دیا جائے گا۔ 
درایں اثنا صیہونی فوج کے حملے اور اسرائیل کے جاسوسی اداروں نے غزہ پٹی میں ایک عمارت کو نشانہ بنانے کا بھی دعوی کیا ہے جس میں تحریک جہاد اسلامی کا ایک کمانڈر بھی موجود تھا۔ 
اس رپورٹ کے مطابق مشرقی شہر غزہ میں واقع شجاعیہ محلہ بھی صیہونیوں کے حملے کا نشانہ بنا ہے۔ 
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس عمارت میں دھماکے کے بعد صیہونی ڈرون طیارے بڑے پیمانے پر غزہ کی فضاؤں میں پرواز کرنے لگے۔ 
دراں ایں اثنا فلسطین کی استقامتی تحریک نے اب تک دسیوں میزائل فائر کر کے مقبوضہ علاقوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایاہے۔
صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے دس سے زیادہ یہودی آبادکاروں کے زخمی ہونے کی خبر دی ہے اور بتایا ہے کہ میزائلی حملوں کے خوف سے عسقلان ، سدیروت شہر اور غزہ پٹی کے اطراف کی کالونیوں میں خطرے کے الارم بجائے گئے۔
ذرائع کے مطابق صیہونی حکومت نے استقامتی محاذ کے مزید حملوں کے خوف سے تل ابیب اور مقبوضہ علاقے کے دیگر شہروں کے اسکول اور آفس بند کردیئے۔ 
اس رپورٹ کے مطابق تحریک جہاد اسلامی کے فوجی بازو القدس بریگیڈ نے بھی مقبوضہ فلسطین کے شہر حیفا کو دسیوں میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ 
اسی طرح فلسطینی استقامت کی میزائلی کارروائیوں کے خوف سے تل ابیب کے ریشون لٹسیون علاقوں میں بھی خطرے کے الارم بجنے لگے۔
تل ابیب کے خلاف فلسطینی استقامتی محاذ کی یہ کارروائیاں، دوہزار چودہ کے بعد اس نوعیت کا پہلا آپریشن شمار ہوتا ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ کی تمام گذرگاہوں کو بند اور غزہ پٹی کے ساحلوں سے چھے میل تک کی حدود کو بلاک کردیا ہے۔ 

ٹیگس