Mar ۰۷, ۲۰۲۰ ۰۵:۰۰ Asia/Tehran
  • قبلہ اول آزاد ہوگا، یہ وعدہ ہے، جنرل قاسم کے مجسمے سے اسرائیل میں ہنگامہ

جنوبی لبنان کے مارون الرأس شہر میں جنرل قاسم سلیمانی کا ایک دیو ہیکل مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔ اس میں دو اہم باتیں بہت اہم جنہوں نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ جب مجسمے کی رونمائی کی گئی تو وہاں موجود لبنانیوں کے زبردست اجتماع میں جنرل قاسم سلیمانی کے دونوں بیٹے بھی موجود تھے جبکہ حزب اللہ کے متعدد بڑے کمانڈر اور جنوبی لبنان کے عوام بھی وہاں موجود تھے۔ دوسری بات جس نے سبھی دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی وہ مجسمے کے پیچھے نظر آنے والا فلسطین کا پرچم تھا اور جنرل قاسم سلیمانی اپنی انگلی سے الجلیل شہر کی جانب اشارہ کر رہے ہیں جو فلسطینی شہر ہے تاہم اسرائیل نے اس پر قبضہ کر رکھا ہے۔

جہاں ایک طرف معرالنوراس میں جنرل قاسم سلیمانی کے مجسمے کی رونمائی کی گئی وہیں دوسری جانب اسی وقت عراق کے دار الحکومت بغداد کے گرین زون علاقے میں واقع امریکی سفارتخانے کے پاس امریکی چھاونی پر تین راکٹ فائر کئے گئے جبکہ شمالی شہر کرکوک میں امریکی چھاونی پر کے-1 میزائل فائر کئے گئے۔

ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایران اور مقاومتی محاذ کی جانب سے پوری کوشش ہو رہی ہے کہ جنرل قاسم زندہ جاوید ہو جائیں اور ان کی تصاویر کروڑوں افراد کے اذہان میں ہمیشہ زندہ رہے۔ مارون الرأس میں نصب کئے گئے جنرل قاسم سلیمانی کے مجسمے کو دیکھنے کے لئے ہر روز بڑی تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی پیغام دیا جا رہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا انتقام رکنے والا نہیں ہے۔ عین الاسد پر ایران کا میزائل حملہ پورا انتقام نہیں بلکہ انتقام کا آغاز تھا۔

جنرل قاسم سلیمانی کے مجسمے کے پیچھے فلسطین کا پرچم اور الجلیل شہر کی جانب اشارہ کرتی ان کی انگلی خاص پیغام دینے کے لئے ہے۔ اس سے یہ بتایا گیا ہے کہ اس عظیم کمانڈر نے فلسطینی تنظیموں کی بے مثال مدد کی۔ لبنان میں حماس کے نمائندے نے بتایا کہ جنرل قاسم سلیمانی نے غزہ پٹی کا خفیہ دورہ بھی کیا ۔ اس کمانڈر کو انہیں عظیم خدمات کی وجہ سے شہید کیا گیا۔ اس لئے ہم اگر کبھی اچانک سنیں کہ اسرائیلی اور امریکی مفاد پر بڑے پیمانے پر حملے شروع ہوگئے تو ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہئے۔

ایران نے علاقے میں مزاحمت کا جو محاذ بنایا ہے وہ بہت طاقتور ہے اور اس کا صبر بھی بہت زیادہ ہے وہ جلد بازی کے بغیر اپنی ترجیحات کے مطابق کام کرتا ہے۔ عراق کے اندر 18 فوجی چھاونیوں میں 5200 امریکی فوجیوں کو باہر نکالنے کا فیصلہ، عراقی پارلیمنٹ سے جاری ہو چکا ہے اور بغداد اور کرکوک میں امریکی چھاونیوں پر حملے یا تو انتقام کی تیاری ہے یا پھر بڑی تبدیلی کا آغاز ہے۔ 

بشکریہ

رای الیوم

عبد الباری عطوان

* مقالہ نگار کے موقف سے سحر عالمی نیٹ ورک کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے*

ٹیگس