Nov ۳۰, ۲۰۲۰ ۲۲:۱۰ Asia/Tehran
  • یو اے ای کے فیصلے پر عراقی پارلیمنٹ کا شدید رد عمل

متحدہ عرب امارات نے کئی عرب اور مسلم ممالک کے شہریوں کے داخلے پر روک لگا دی ہے جن میں عراق کا بھی نام شامل ہے۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے اس فیصلے پر عراقی پارلیمنٹ میں شدید رد عمل ظاہر کیا گیا۔

عراقی ارکان پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ حکومت اس مسئلے پر سخت کاروائی کرے اور متحدہ عرب امارات کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے اعتراض درج کرائے۔

عراقی ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو متحدہ عرب امارات کے ساتھ پوری طرح تعلقات منقطع کر لئے جائیں۔

گزشتہ بدھ کے روز متحدہ عرب امارات نے 13 ممالک کے شہریوں کو ویزا جاری کئے جانے پر روک لگا دی تھی جن میں زیادہ تر عرب اور مسلم ممالک ہیں۔

امارات کے اس فیصلے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عراق کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم سفارتی چینل سے اس مسئلے پر گفتگو کریں گے کیونکہ امارات نے اس بارے میں ہمیں پہلے سے اطلاع نہیں دی تھی۔

عراقی پارلیمنٹ میں خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن عامر الفائز نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ویسے تو یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے تاہم جن ممالک کے شہریوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہيں ان میں زیادہ تر وہ ممالک  ہیں جنہوں نے اسرائیل سے معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور جو فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔

عامر الفائز نے کہا کہ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے ساتھ نام نہاد امن معاہدے کے موضوع سے متعلق ہے، اسی لئے ہم اپنی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو مسترد کرے کیونکہ یہ عراقیوں کی بے عزتی ہے۔

ٹیگس