• صیہونی جنگی طیارے کے تباہ ہونے کی تفصیلات

طیارے کے پائلٹ نے تفصِلات بتاے ہوئے کہا کہ ایک دھماکے کی آواز آئی اور ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارے جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ایک بہت برا احساس ہوتا ہے کہ آپ کے ہاتھوں سے جہاز کا کنٹرول نکل جائے۔

غاصب صیہونی حکومت کے لڑاکا طایرے کی تباہی کے بعد اس کے دو پائلٹوں نے تفصِلات بیان کی ہیں۔

سحر عالمی نیٹ ورک کے مطابق غاصب صیہونی حکومت کے لڑاکا طیارے ایف سولہ کے تباہ ہونے کے بعد یہ دو پائلٹس طیارے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ایف سولہ طیارے کے پائلٹ کے مطابق خوش قسمتی سے وہ بچ نکلے کیونکہ وہ سمجھ چکے تھے کہ اب طیارے کے انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔

 

یہ دونوں پائلٹس طیارے سے باہر نکلنے کے بعد ۱۴۰۰۰ فٹ کی بلندی سے نیچے جولان کی پہاڑی پر گرے۔ غاصب صیہونی حکومت نے ہفتے کے دن اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے شام کے اندر گھس کر بارہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ تل ابیب کے مطابق ایک ایرانی ڈرون مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں کے اندر داخل ہوا تھا جس کو روکنے کے لئے یہ آپریشن کیا گیا لیکن ایران نے اس الزام کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔

 

 

غاصب صیہونی حکومت نے اپنے لڑاکا طیارے ایف سولہ کے تباہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسے شام کی ایئر ڈیفنس فورس نے نشانہ بنایا ہے۔

غاصب صِہونی حکومت اپنے لڑاکا طیارے کے تباہ ہونے کا مختلف زاویوں سے جائزہ لے رہی ہے۔ سن ۱۹۸۲ میں لبنان اور غاصب صیہونی حکومت کے درمیان تینتیس روزہ جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جس صیہونی طیارہ مار گرایا گیا ہے۔

 

 

طیارے کے پائلٹ نے تفصِلات بتاے ہوئے کہا کہ ایک دھماکے کی آواز آئی اور ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارے جہاز کو نشانہبنیا گیا ہے۔ یہ ایک بہت برا احساس ہوتا ہے کہ آپ کے ہاتھوں سے جہاز کا کنٹرول نکل جائے۔

دوسرے پائلٹ نے بتایا کہ جہاز کو نقصان پہنچنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں تیزی سے باہر نکل جانا چاہئے۔

 

 

 

Feb ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۰:۲۷ Asia/Tehran
کمنٹس