• پاکستانی حکومت کو گیس پائپ لائن معاہدے کے مطابق سترہ مہینے قبل یعنی دو ہزار چودہ کے اختتام تک اپنے تمام وعدوں پر عمل کرنا چاہیے تھا۔
    پاکستانی حکومت کو گیس پائپ لائن معاہدے کے مطابق سترہ مہینے قبل یعنی دو ہزار چودہ کے اختتام تک اپنے تمام وعدوں پر عمل کرنا چاہیے تھا۔

پاکستان کی تیل اور گیس کی قومی کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی وزارت پیٹرولیم اور قدرتی ذخائر کا ایک اعلی رتبہ وفد آئندہ ماہ تہران کا دورہ کرے گا۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی تیل اور گیس کمپنی کے سربراہ مبین صولت نے پیر کے روز کہا کہ یہ دورہ ایران کی وزارت پیٹرولیم کی دعوت پر انجام پا رہا ہے۔ ایران کی وزارت پیٹرولیم نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد پاکستان کی وزارت پیٹرولیم کو دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن معاہدے پر دوبارہ بات چیت کرنے کے لیے تہران آنے کی دعوت دی ہے۔ مبین صولت نے کہا ہے کہ ابھی اس دورے کی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے لیکن توقع ہے کہ یہ دورہ مئی کے وسط میں انجام پائے گا۔

پاکستانی حکومت کو گیس پائپ لائن معاہدے کے مطابق سترہ مہینے قبل یعنی دو ہزار چودہ کے اختتام تک اپنے تمام وعدوں پر عمل کرنا چاہیے تھا اور اپنی سرزمین پر گیس پائپ لائن کی تعمیر مکمل کرنی چاہیے تھی لیکن پاکستان نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی عملی اقدام نہیں کیا ہے۔

ٹیگس

Apr ۲۶, ۲۰۱۶ ۰۹:۲۸ Asia/Tehran
کمنٹس