پاکستان میں دہشت گردی کے دو مختلف واقعات میں 8 دہشت گرد اور 3 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔

پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق خیبر ایجنسی میں افغانستان سے دہشت گردوں نے ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے بعد دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 6 دہشت گرد اور فرنٹیر کور کے 2 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

 دہشت گردی کا دوسرا واقعہ تحصیل چارسدہ کے علاقے شبقدر میں رونما ہوا جس کے دوران 2 خودکش بمبار اور ایک ایف سی اہلکار ہلاک اور ایک ایف سی اہلکار زخمی ہوا۔

پاکستان کی فوج کے تعلقات عامہ کے دفتر آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے ایف سی ٹریننگ سینٹر میں گھسنے کی کوشش کی جسے سکیورٹی اہلکاروں نے ناکام بنا دیا۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لندن میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے مسئلے پر مثبت پیش رفت کی رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کی حالیہ لہر میں افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں اور وہاں موجود ان کی قیادت کو ملوث قرار دیا ہے جبکہ افغانستان اس قسم کے دعوؤں کی تردید کرتا ہے۔

Mar ۱۷, ۲۰۱۷ ۰۶:۱۰ UTC
کمنٹس