پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے پاناما کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کےسینیئر قانون دان اور پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے آج صبح سینٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پانچ رکنی بینچ کے دو سینیئر ججز کا فیصلہ دیگر تین ججز پر بھاری ہے اور ان دو ججز نے نواز شریف کو صادق اور امین نہ ہونے کے باعث نا اہل قرار دیا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف  کے چیرمین عمران خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کے فیصلے کے بعد وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں عدالت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ایسا فیصلہ  کبھی نہیں آیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج قوم کے سامنے پانچوں ججوں کا مشترکہ طور پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ آیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں جو ثبوت جمع کیے گئے وہ ناکافی ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے دو چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ان کو گھر بھیج دو یہ جج ملک کے معزز جج ہیں۔  انہوں نے کہا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی قوم کی طرف سے نواز شریف سے کہتا ہوں کہ وہ فوری طور پر استعفیٰ دے دیں کیونکہ ان کے پاس وزارت عظمی کے عہدے پر رہنے کا کون سا اخلاقی جواز رہ گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز کے صدر آصف علی زرداری نے بھی پاناما کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ۔

سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ 9 مہینے تک قوم کے ساتھ جو مذاق ہوتا رہا ہے اس کی مذمت کرتا ہوں اور اس فیصلے کی بھی مذمت کرتا ہوں۔

آصف زرداری نے کہا کہ ان دو سینیئر ججز کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ وزیراعظم نا اہل ہوچکے ہیں، سینیئر ججز کا فیصلہ جونیئر ججز پرغالب ہوتا ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ 'میں یہ سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم کو اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دے دینا چاہیے گوکہ میں یہ جانتا ہوں کہ وہ آخری دم تک استعفیٰ نہیں دیں گے اور ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تفتیش کے لیے نیب، اسٹیٹ بینک، آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے کے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ سنایا تھا جو 60 روز میں تفتیش کرکے اپنی رپورٹ بنچ میں جمع کرے جس کےبعد حتمی فیصلہ سنایا جائے گا ۔

 

Apr ۲۱, ۲۰۱۷ ۰۵:۵۴ UTC
کمنٹس