پاکستان کی قومی اسمبتلی میں آج پاناما کیس کو لے کر متحدہ اپوزیشن نے زبردست احتجاج کیا جس سے ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی زیر صدارت ہوا جس میں تمام اپوزیشن ارکان بازؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے۔ آج صبح ہونے والے اجلاس میں عمران خان کو بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پرتمام اپوزیشن ارکان نے بھی شور شرابہ شروع کردیا اور حکومتی ارکان کی جانب سے بھی نعرے بازی کی گئی، حکومتی اور اپوزیشن بینچوں سے تلخ جملوں کا تبادلہ بھی کیا گیا جس سے ایوان مچھلی بازار بن گیا۔

اپوزیشن ارکان نے ڈپٹی اسپیکر کی ڈائس کا گھیراؤ بھی کیا اور ایوان کے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں جب کہ قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے شور شرابے پراجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامے سے قبل قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 2 ججز نے پاناما کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جب کہ 3 ججز نے جے آئی ٹی سے تحقیقات کا حکم دیا ہے لیکن جے آئی ٹی وقت کے وزیراعظم سے تحقیقات نہیں کرسکتی۔ نوازشریف کو چاہیئے کہ وہ جمہوری نظام اور پارلیمنٹ کو بچانے کے لئے مستعفیٰ ہو جائیں۔

 

Apr ۲۱, ۲۰۱۷ ۰۷:۱۵ UTC
کمنٹس