• یمن سے ملنے والی سعودی سرحدوں پر پاکستانی فوج کی تعیناتی

پاکستان نے اپنے پانچ ہزار فوجیوں کو سعودی عرب روانہ کر کے عملی طور پر خود کو یمن میں سعودی عرب کی جنگ میں شامل کر لیا جبکہ سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف بھی، این او سی ملنے کے بعد سعودی عرب روانہ ہو گئے۔

پاکستان کے ایک سینیئر عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر  بتایا ہے کہ پاکستانی حکومت نے جمعے کو اپنے پانچ ہزار فوجیوں کو یمن سے ملنے والی سعودی عرب کی سرحدوں پر تعینات کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی-

کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے اپنے پانچ ہزار فوجیوں کو سعودی عرب اور یمن کی سرحدوں پر تعینات کئے جانے کا مقصد یمن کی فوج اور عوامی رضاکارفورس کے حملوں کا مقابلہ کرنا ہے-

یہ  بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی فوج یمنی فوج کی پیشقدمی کے دوران سعودی فوجی تنصیبات کی حفاظت پر مامور ہو گی- اس کے علاوہ بارہ سو پاکستانی فوجی، سعودی عرب میں سعودی فوجیوں کو ٹریننگ دے رہے ہیں-

دریں اثنا پاکستانی فوج کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کے لئے این او سی حاصل کرنے کے بعد سعودی عرب روانہ ہو گئے-

پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق جنرل راحیل شریف کو لینے کے لئے سعودی عرب کا ایک خصوصی طیارہ لاہور پہنچا تھا- ان کے ہمراہ ان کے گھر والے بھی سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں-

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے راحیل شریف کو قانون کے مطابق این او سی جاری کیا ہے جبکہ پاکستان میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ راحیل شریف کو این او سی جاری کرنے کی منظوری جنرل ہیڈکوارٹر جی  ایچ کیو سے دی گئی-

حکومت پاکستان کی جانب سے سعودی فوجی اتحاد میں شمولیت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب پاکستان کی کئی سیاسی جماعتوں اور متعدد شخصیات نے حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو پاکستان کے مفاد کے خلاف قرار دیا ہے-

پاکستان میں بہت سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے خطرناک نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں-    

 

Apr ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۳:۴۱ UTC
کمنٹس