محمود خان اچکزئی نے کہا ہےکہ پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔

کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدرمحمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات، سعودی عرب اور ایران کی چپقلش کے خاتمے کے لئے کوششیں کرنے میں مضمر ہے۔ اگر سعودی عرب اور ایران کی چپقلش میں ہم حصہ دار بنے تو خدانخواستہ یہاں گلی گلی خون خرابہ ہوگا۔ اس وقت سب سے زیادہ خطرناک ارادے پاکستان کے حوالے سے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان ہم سے صرف یہ انٹرنیشنل گارنٹی چاہتا ہے کہ انہیں ہم ایک خود مختار ریاست تسلیم کریں۔ افغانستان پاکستانیوں کے لئے ہمیشہ سے دارالامن رہا ہے، بلکہ وہ ہمارا بہترین ہمسایہ ملک بھی ہے۔ ورنہ یہاں امن و امان کی بہتری، سی پیک سمیت دیگر منصوبوں پر سوالیہ نشان ثابت ہوگا۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدرنے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین سے بہتر گارنٹر کوئی نہیں ہوسکتا۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان راضی نامہ کرانا سب سے آسان کام ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ہمیں غلط فکر کو ختم کرنا ہوگا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اب بھی افغان حکومت پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات کی خواہاں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم بھیانک صورتحال سے دوچار ہوں گے، کیونکہ اس وقت دنیا بھر کی بلائیں یہاں آکر بیٹھ گئی ہیں۔

 

Jul ۱۵, ۲۰۱۷ ۰۵:۴۳ UTC
کمنٹس