پاکستان کی حزب اختلاف کے رہنما اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف قائم پاناما پیپرز کیس کا عدالتی فیصلہ ایک ہفتے کے اندر آنے کی امید ظاہر کی ہے۔

سکھر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سید خورشید نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پیش ہونے کے بعد پاناما کیس کا فیصلہ ایک ہفتے میں آجائےگا۔

خورشید نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ کل شروع ہونے والے کیس میں عدالت سے زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کر سکے،لیکن مجھے لگتا ہے کہ فیصلہ ایک ہفتے میں آجائےگا۔

یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ پاناما پیپرز کیس میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان  کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے گزشتہ دنوں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کردی ہے۔

 رپورٹ میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف آٹھ معاملات میں تحقیقات اور دو معاملات میں انکوائری دوبارہ شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔

 کہا جارہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے تناظر میں پاکستان کے وزیرا‏عظم کو اپوزیشن کے شدید دباؤ کا سامنا ہے تاہم انہوں نے استعفے کے مطالبات کو مسترد کردیا ہے۔

Jul ۱۶, ۲۰۱۷ ۱۶:۵۶ UTC
کمنٹس