• پاکستان کی جانب سے امریکی الزامات مسترد

پاکستان نے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق امریکی الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

غیرملکی میڈیا اداروں کے نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے بڑھ کر کام کیا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مسئلے کے پرامن حل کے لیے اس خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ پرعزم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا مسئلہ بلاشبہ پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے اور اس کے حل کے لئے ہم نے بہت کچھ کیا ہے اور اسے شکست دی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں کے ساتھ شمالی وزیرستان بھی ویسا ہی علاقہ ہے تاہم انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) نے وہاں کیا حاصل کیا؟ پاکستان مشترکہ گشت اور چوکیوں کے لئے تیار ہے، ہم نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگائی ہے اور اگر دوسری جانب سے ایسا کیا جاتا ہے تو اس کا خیر مقدم کریں گے۔ دوسری جانب سے دہشت گردوں کی موجودگی، پاکستانی سرحدی علاقوں پر حملوں کے حوالے سے پاکستان کے خدشات دور کرنے کی ضرورت ہے، سرحد کی دوسری جانب سے بہت کچھ ہو رہا ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے اس تاثر کو یکسر رد کر دیا کہ حملے پاکستانی علاقے سے کیے جاتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے۔

’’برکس‘‘ اعلامیے کے بارے میں پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ یہ بیان پاکستان کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس میں بعض کالعدم تنظیموں کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے پاکستان اور چین کی حکومتوں کی پالیسی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ خارجہ پالیسی حکومت کے تابع ہے اور فوج حکومت کا حصہ ہے۔

لائن آف کنٹرول پر پاک ہند کشیدگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن تعلقات قائم رکھنے کے لیے کوششوں کا خیر مقدم کیا اور وہ اس مسئلے کو پرامن طور پر حل کرنے کا خواہاں ہیں۔

 

Sep ۱۳, ۲۰۱۷ ۰۳:۲۸ UTC
کمنٹس