• پاکستانی وزیردفاع کا سینئر  امریکی عہدیدار سے ملاقات سے انکار

اسلام آباد نے اپنے وزیر دفاع کے ساتھ سینئرامریکی عہدیدار کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی۔

آوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد پاکستان کے وزیردفاع خرم دستگیر نے امریکی سینئر عہدیدار کی جانب سے ملاقات کی باربارکی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عہدیدار اپنے ہم منصب سے ملاقات کریں۔
اس سے قبل پاکستان اور افغانستان کے امور میں امریکی حکومت کی خصوصی نمائندہ ایلس ویلزکا دورہ اسلام آباد منسوخ ہوچکا ہے اور پاکستان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک امریکی حکام سےگفتگو کے لئے تیار نہیں ہے۔
افغانستان و پاکستان کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی اسٹریٹیجی پر پاکستانی حکام اور سیاستدانوں نے سخت برھمی کا اظہار کیا ہے۔
گذشتہ چند دن کےدوران پاکستان کے مختلف شہروں میں امریکہ مخالف مظاہرے بھی ہوئے ہیں جن میں امریکہ مردہ آباد کے نعرے لگائے گئے اور امریکی پرچم اور اس کے پتلے نذر آتش کئے گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے مختلف علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں کے خلاف بھی قبائلی علاقوں میں شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔
آوا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں پاکستان کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان حالات میں اس طرح کے اقدامات، اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان عدم اعتماد، دشمنی میں اضافے،اور مسائل بڑھنے کا باعث ہوسکتے ہیں۔
امریکہ کے ڈرون طیاروں نے جمعے کو پشاور کے قریب کرم ایجنسی میں بمباری کی جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔
افغانستان کے سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ کی نئی اسٹریٹیجی کے اعلان کے بعد شمال مغربی پاکستان کے قبائلی علاقوں پر یہ امریکہ کا پہلاحملہ شمار ہوتا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان پر دہشتگردی کی حمایت اور اس ملک پردہشتگردوں کی پناہگاہ ہونےکاالزام لگاتے ہوئے، اسلام آباد کی فوجی و مالی مدد روکنے کی دھمکی دی ہے۔
گذشتہ برسوں میں بھی امریکہ کے ڈرون طیاروں نے خیبرپختونخواہ کے مختلف علاقوں پر با رہا بمباری کی ہے جس پر پاکستان کے عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتاہے۔

 

Sep ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۱:۵۹ UTC
کمنٹس