• نااہل شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا، سینٹ کی قرارداد

سینیٹ نے نااہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔

سینیٹ اجلاس چیرمین رضا ربانی کی زیر صدارت ہوا جس میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے ایوان کی جانب سے منظور کردہ الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف قرارداد پیش کی ۔

قرارداد کی منظوری کے لئے ایوان میں ووٹنگ کرائی گئی جس کے حق میں 52 اور مخالفت میں 28 ووٹ ڈالے گئے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ عدالت سے نااہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا کیوں کہ ایسا شخص پارلیمنٹ سے باہر بیٹھ کر بھی اپنی سیاسی جماعت کی پالیسی بنائے گا اور اس کے فیصلے بھی کرے گا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ ایسے شخص کے ہاتھوں یرغمال بن جائے گی جو پارلیمنٹ میں داخل بھی نہیں ہوسکتا لہذا سینیٹ کا ایوان سمجھتا ہے کہ ایسا شخص پارٹی کا عہدے دار نہیں ہونا چاہیئے جو نااہل قرار دیا جا چکا ۔

دوسری جانب قائد ایوان راجا ظفرالحق کا کہنا تھا کہ کسی شخص کے پارٹی سربراہ بننے سے متعلق بل اسی ایوان سے منظور ہو چکا ہے اور اب اسی قانون کے خلاف قرارداد لانا مناسب نہیں۔ وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ ہر ایک کو اپنا سربراہ منتخب کرنے کا حق ہے لہذا اس قرارداد پر ایوان میں بحث نہ کرائی جائے۔

واضح رہے کہ سینیٹ نے گزشتہ اجلاس میں الیکشن بل 2017 کی منظوری کے وقت اپوزیشن کی شق 203 میں ترمیم مسترد کر دی تھی جبکہ اعتزاز احسن کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 37 اور مخالفت میں 38 ووٹ آئے تھے۔

Oct ۱۲, ۲۰۱۷ ۰۴:۲۹ UTC
کمنٹس