• لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے مظاہرے اور گرفتاریاں

لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے آج نماز جمعہ کے بعد پاکستان بھر میں مظاہرے کئے جائیں گے۔

مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ ملت جعفریہ کے لاپتہ افراد پر اگر کوئی الزام ہے، تو انہیں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے، کسی بھی شہری کو اس طرح حراست میں رکھنا آئین و قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، لاپتہ شیعہ افراد کے معاملے میں پوری شیعہ قوم ایک پیج پر کھڑی ہے، جبری گمشدہ افراد کے لئے شروع کی گئی تحریک کا دائرہ کار بہت جلد پورے ملک میں پھیلایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بزرگ شیعہ عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی نے لاپتہ شیعہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجاَ خود کو گرفتاری کے لئے پیش کرکے ملت کے درد سے سب کو آگاہ کیا ہے اور میں بھی بعد نماز جمعہ میں خود جامع مسجد مصطفیٰ عباس ٹاون سے گرفتاری دوں گا۔

 علامہ احمد اقبال نے کہا کہ  ہمارا یہ احتجاج اختیارات سے تجاوز کے مرتکب اداروں اور غیر قانونی طرز عمل کے خلاف ہے، جب تک لاپتہ شیعہ افراد کو بازیاب نہیں کرایا جاتا، تب تک ہمارا یہ پُرامن احتجاج اسی انداز سے جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد اور ہمارا ہر عمل ہماری حب الوطنی کا برملا اظہار ہے، ہمیں کسی سے وطن حب الوطنی اور وفاداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان میں اہل تشیع مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ سب سے زیادہ کی گئی، ہمارے نوجوان کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں، اگر عدالتیں لاپتہ شیعہ جوانوں کو مجرم ثابت کر دیں، تو انہیں سزا دی جائے۔

Oct ۱۳, ۲۰۱۷ ۰۷:۳۷ UTC
کمنٹس