• فیض آباد انٹرچینج پردھرنے کے خلاف آپریشن

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے فیض آباد علاقے میں پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث مظاہرین منتشر ہونے لگے۔ درجنوں افراد گرفتار کرلیے گئے جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے کئی اہلکار زخمی ہوگئے۔

عدالت کے احکامات پر اسلام آباد کے علاقے فیض آباد انٹرچینج پر  20روز سے جاری دھرنے کو ختم کرانے کے لیے آج صبح پولیس نے آپریشن کا آغاز کر دیا۔

پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث مظاہرین منتشر ہونے لگے۔ اور اب تک 300 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے کئی اہلکار زخمی ہوگئے۔ ڈی سی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈمشتاق نے بتایا کہ کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں، کارروائی میں پولیس ،رینجرزاور ایف سی کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے۔

 آنسو گیس کی شیلنگ کی جارہی ہے، جس کے بعد ہر جانب آنسو گیس کا دھواں ہی دھواں نظر آرہا ہے۔ آنسو گیس سے مظاہرین منتشر ہونا شروع ہوگئے ہیں جبکہ پولیس نے گرفتاریاں بھی شروع کردی ہیں۔ آپریشن کی نگرانی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی کی جارہی ہے۔

آپریشن سے قبل فیض آباد میں پولیس ایف سی کے تازہ دم دستےآئی ایٹ پل کے قریب اور فیض آباد بھی پہنچ گئے تھے، پانی کی توپ اور واٹر ٹینکرز بھی دھرنے کے قریب پہنچا دیے گئے تھے۔ ممکنہ گرفتاریوں کےلیے قیدیوں کی گاڑیاں فیض آباد کےقریب پہنچ گئیں، ایمبولینسز بھی دھرنے کے مقام کے قریب پہنچا دی گئیں۔

اس سے قبل فیض آباد کےقریب دھرنے کے شرکاء نے پولیس وین پر پتھراؤ کیا، پتھراؤ کے باعث پولیس پیچھے ہٹ گئی، مظاہرین نے خوب نعرےبازی کی۔

راولپنڈی میں فیض آباد کے علاقے کو پولیس نے پہلے ہی مکمل خالی کرالیا ہے، علاقے میں مارکیٹیں بند اور بس اڈے خالی کرلیےگئے ہیں جبکہ غیر متعلقہ افراد کاداخلہ بھی بندکردیاگیا۔

دھرنا ختم کرنے کے لیے کسی ممکنہ آپریشن کے نتیجے میں ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے اور توڑ پھوڑ سے بچنے کے لیے مری روڈ پر بھی پولیس کی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

ادھر کراچی میں بھی نمائش چورنگی پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور پولیس کی نفری پہنچ گئی ہے، جبکہ مذہبی جماعت لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا جاری ہے۔

 

Nov ۲۵, ۲۰۱۷ ۰۴:۲۰ UTC
کمنٹس