• دھرنے کے خلاف آپریشن میں  1 ہلاک 100 زخمی اور 300 گرفتار، حالات کشیدہ

اسلام آباد کے علاقے فیض آباد انٹرچینج پر20 روز سے جاری دھرنے کے خلاف آپریشن جاری ہے، پولیس نے 300 مظاہرین کو گرفتارکرلیا ہے جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور56 زخمی ہوگئے ۔

 عدالتی احکامات پر اسلام آباد کے علاقے فیض آباد انٹرچینج پر20روز سے جاری دھرنے کو ختم کرانے کے لیے پولیس نے آج صبح آپریشن  شروع کیا جو تا حال جاری ہے۔

پولیس نے 300کے قریب مظاہرین کو گرفتارکرلیا جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکارہلاک جبکہ 56 پولیس اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کومختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

پولیس اور ایف سی کے 8ہزار اہلکار آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ رینجرز اہلکار بھی پولیس اور ایف سی کی مدد کے لیے موجود ہیں۔ آپریشن کی نگرانی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی کی جارہی ہے۔

دھرنا آپریشن کے خلاف لاھور،کراچی،پشاور اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ جبکہ فیض آباد انٹرچینج اس وقت میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔

ادھر کراچی میں بھی نمائش چورنگی پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور پولیس کی نفری پہنچ گئی ہے، مذہبی جماعت لبیک یارسول کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا آج بھی جاری ہے۔

لاہور بار ایسوسی ایشن نے تحریک لبیک یارسول اللہ کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے آج مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدرچودھری تنویر ایڈووکیٹ نے تحریک لبیک کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے آج عدالتوں میں ہڑتال کا اعلان کر دیا جس کے تحت کوئی وکیل عدالتوں میں پیش نہیں ہو گا۔

 

Nov ۲۵, ۲۰۱۷ ۰۷:۳۷ UTC
کمنٹس