• دھرنا آپریشن کے خلاف پاکستان بھر میں مظاہرے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مذہبی جماعت کا دھرنا ختم کرائے جانے کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے دھرنے کے شرکا کو دی جانے والے مہلت کے خاتمے کے بعد پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے کارروائی کی جس کے دوران سیکورٹی اہلکاروں اور دھرنے کے شرکا کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
سیکورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ شدید شیلنگ کے بعد مظاہرین منتشر ہونا شروع ہو گئے جبکہ پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
پولیس اور دھرنے کے شرکا کے درمیان تصادم میں چھپن سیکورٹی اہلکار اور چوالیس دھرنا شرکا زخمی ہو گئے جبکہ ایک شخص کے مارے جانے کی بھی خبر ہے۔
دھرنا آپریشن کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے جن کے دوران مشتعل مظاہرین نے متعدد بسوں اور گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔
پاکستان کے صنعتی اور تجارتی مرکز کراچی میں نمائش، ٹاور اور خداداد کالونی میں مذہبی جماعتوں کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے اسلام آباد میں دھرنا آپریشن کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔
پاکستان کے ثفافتی شہر لاہور میں ملتان روڈ اور شاہدرہ سمیت کئی مقامات پر تحریک لبیک یا رسول اللہ (ص)  کے کارکنوں نے مظاہرے کئے۔
پاکستان کے دیگر شہروں سے بھی ایسے مظاہروں کی خـبریں موصول ہوئی ہیں اور کہا جا رہا ہے کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
قابل ذکر ہے کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ (ص) کے کارکن، ملک کے وزیر قانون کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے پچھلے بیس روز سے دارالحکومت اسلام کے داخلی راستے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دیئے بیٹھے تھے۔
حکومت اور دھرنے کی قیادت کرنے والوں کے درمیان مذاکرات کے چھے دور ہوئے تاہم ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا جس کے بعد عدالت نے حکومت کو ہفتے تک دھرنا ختم کرانے کا حکم دیا تھا۔

 

Nov ۲۵, ۲۰۱۷ ۱۰:۵۵ UTC
کمنٹس