Nov ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۱:۴۵ Asia/Tehran
  • پاکستان کے وزیر قانون زاہد حامد کااستعفیٰ منظور

پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نےزاہد حامد کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

دھرنا مظاہرین کےساتھ ہونےوالےمعاہدے کےتحت وزیر قانون زاہد حامد کی جانب سے پیش کیا گیا استعفیٰ وزیراعظم شاہدخاقان منظورکرلیا ہے۔ اس سے قبل وزیرِ قانون زاہد حامد نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے لاہور میں ملاقات کی تھی اور انہیں وزارت سے مستعفی ہونے کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔ زاہد حامد نے وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ ن کے پارٹی صدر نواز شریف کو بھی اس فیصلے پر اعتماد میں لیا تھا۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے ختم نبوتؐ کے قانون پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا کسی احمدی، لاہوری یا قادیانی گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ختم نبوت کیلئے اپنی جان بھی قربان کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ختم نبوتؐ پر غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں۔ ترمیمی بل سے براہِ راست تعلق نہیں ہے، بل تمام پارلیمانی جماعتوں کا متفقہ منظورکردہ تھا۔

حکومت اور دھرنا مظاہرین کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے کی پہلی شق میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد تحریک لبیک کوئی فتوی جاری نہیں کرے گی۔ دوسری شق میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے حکومت الیکشن ایکٹ 2017، 7 بی اور 7 سی کا اردو متن حلف میں شامل کرے۔ راجا ظفر الحق رپورٹ 30 دن میں منظر عام پر لائی جائے گی، الیکشن ایکٹ ترمیم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

معاہدے پر وزیر داخلہ احسن اقبال، سیکرٹری داخلہ اور علامہ خادم حسین رضوی نے دستخط کئے۔

ٹیگس