• چرچ حملے میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی،40 سے زائد زخمی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں ایک چرچ پر دہشت گردانہ حملے میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے جبکہ چالیس سے زائد افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق دہشت گردوں نے، کہ جن کی تعداد چار بتائی جاتی ہے، کوئٹہ کے زرغون روڈ پر قائم ایک چرچ پر اس وقت حملہ کردیا جب لوگوں کی بڑی تعداد ہفتہ وار عبادت میں مشغول تھی۔

رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ایک دہشت گرد کو سیکورٹی اہلکاروں نے چرچ کے دروازے پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تاہم دوسرے نے چرچ کے اندر دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کے دو ساتھی جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

اسپتال کے ذرائع نے چرچ پر دہشت گردانہ حملے میں دو خواتین سمیت آٹھ افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔

اگرچہ زخمیوں کی تعداد کے بارے میں رپورٹ میں سرکاری سطح پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم بعض خبروں میں زخمیوں کی تعداد چالیس سے زائد بتائی گئی ہے جن میں متعدد افراد کی حالت نازک ہے۔
مجلس وحدت مسلمین، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، پاکستان عوامی تحریک سمیت پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے چرچ پر خودکش حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
فوری طور پر کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور دوسرے تکفیری گروہ، پاکستانی عوام اور سیکورٹی اداروں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔

ٹیگس

Dec ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۱ Asia/Tehran
کمنٹس