• ننھی زینب کے قتل کے خلاف مظاہرے حالات کشیدہ

ننھی زینب کے قتل کے خلاف شہر میں دوسرے دن بھی حالات کشیدہ ہیں اور نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق قصور کے تھانہ صدر کے علاقے میں 8 سالہ زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے بعد صورت حال دوسرے دن بھی خراب ہے۔ زینب کے گھر والوں کے پاس تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہے۔

جمعرات کی صبح وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف خود قصور پہنچے اور انہوں نے ننھی زینب کے گھر والوں کو انصاف دلانے کی یقین دہانی کی لیکن عوام کے جذبات ٹھنڈے ہونے کا نام نہیں لے رہے ۔ شہر میں مکمل ہڑتال ہے، مشتعل مظاہرین نے سول اسپتال کے سامنے اسٹیل باغ چوک کو چاروں اطراف سے بند کردیا ہے۔ احتجاج کی وجہ سے قصور کا دیگر شہروں سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ واقعے کے خلاف پنجاب بار کونسل کی اپیل پر صوبے بھر میں وکلا برادری ہڑتال بھی کر رہی ہے۔

زینب کے قتل کے خلاف پر تشدد احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق شعیب اور محمد علی کی لاشیں لواحقین کے حوالے کردی گئی ہے۔ جن کی تدفین آج ہی کر دی جائے گی۔ پولیس کی بھاری نفری شہر میں طلب کئے جانے کے باوجود گزشتہ روز جیسے سانحے سے بچنے کے لئے پولیس اہلکاروں کو مشتعل مظاہرین سے فی الحال دور رہنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

دوسری جانب عوام کے غم و غصے، اعلیٰ عدلیہ کے از خود نوٹس اور آرمی چیف کی جانب سے پاک فوج کو ملزم کی گرفتاری کے لیے تعاون کی ہدایت کے بعد پولیس اور دیگر ادارے بھی سرگرم ہوچکے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں نے زینب کے قاتل کو فی الفور گرفتار کرکے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے قصور واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے متعلقہ اداروں کی نا اہلی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم سن بچوں پر جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک اسلامی ریاست کے چہرے پر بھیانک داغ ہیں، معصوم  زینب کی عصمت دری اور قتل کے واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، ایک جانب معصوم پھول جیسی بچی کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا دوسری جانب پنجاب پولیس نے سانحہ ماڈل کی یاد تازہ کرتے ہوئے نہتے مظاہرین پر گولیاں برساکر تین شہریوں کو قتل کردیا۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے آج قصور پہنچنے کے بعد عوام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زینب کے قتل کے بعد حکمرانوں کو اقتدار میں نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قصور کو پنجاب حکومت نے ظلم و ستم کا مرکز بنا دیا، سراج الحق کا کہنا تھا کہ جب تک قاتلوں کو پھانسی کے پھندے تک نہ پہنچا دیں اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے شہباز شریف کی رات کے اندھیرے میں تعزیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ رات کے اندھیرے میں زینب کے گھر پہنچے تھے، رات کے اندھیرے میں توچھاپے مارے جاتے ہیں، وزیراعلیٰ کو دن کی روشنی میں آکر وضاحت دینی چاہئے تھی۔

واضح رہے کہ زینب کو ایک ہفتے قبل اغوا کیا گیا تھا، پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج ملنے کے باوجود معصوم بچی کو بازیاب نہیں کراسکی تھی تاہم منگل کی شام اس کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زینب کے ساتھ ایک سے زائد مرتبہ زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے، قصور میں زینب کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ پہلا نہیں ہے۔ 2016 سے اب تک 12 بچیوں کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا جاچکا ہے لیکن تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

Jan ۱۱, ۲۰۱۸ ۰۷:۵۱ UTC
کمنٹس