• بلوچستان، عبدالقدوس بزنجو نئے قائد ایوان

بلوچستان اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں نے مسلم لیگ (ق) کے عبدالقدوس بزنجو کو قائد ایوان کے لیے مشترکہ طور پر امیدوار نامزد کر دیا۔

کوئٹہ میں اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے رہنما عبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان اسمبلی کا نیا قائد ایوان نامزد کر دیا۔ اس موقع پر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ سب کو ساتھ لے کر چلوں گا اور بلوچستان کے عوام کی خدمت کی بھر پور کوشش کروں گا۔

عبدالقدوس بزنجو نے نامزدگی پر تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی جبکہ سابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا مشکور ہوں جنہوں نے تحریک کی خاطر وزارت قربان کر دی۔

واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف بغاوت کردی تھی جبکہ مسلم لیگ (ق) کے عبدالقدوس بزنجو اور مجلس وحدت المسلمین کے آغا رضا محمد کی جانب سے تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کرائی گئی تھی تاہم اسمبلی کے اجلاس میں تحریک پیش ہونے سے پہلے ہی ثنا اللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

دوسری جانب کوئٹہ میں مجلس وحدت المسلمین کے رہنما اور رکن اسمبلی آغا رضا محمد کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرنے والے اراکین اسمبلی کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔ اس موقع پر سابق وزیر داخلہ اور ممبر بلوچستان اسمبلی سرفراز بگٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی قوم کے نمائندے آغا رضا سے پہلے دن سے جب وہ اسمبلی میں آئے دوستی کا رشتہ ہے اور اب یہ رشتہ مزید مضبوط تر ہوچکا ہے، میں سمجھتا ہوں شیعہ ہزارہ قوم نے جو قربانیاں اور خون دیا ہے آج اُس کا پھل مل رہا ہے، دہشت گرد ہمارے اسکولوں، کالجز، ہسپتالوں، بازار اور مارکیٹس ویران کرنا چاہتا تھا لیکن ہم نے مل کر انہیں ناکام بنا دیا ہے، ہم خوشی، غمی، دُکھ ،سکھ میں ایک ساتھ ہیں، کچھ لوگ تحریک عدم اعتماد کے عمل کو غیر جمہوری کہہ رہے ہیں حالانکہ یہ حکمران اپنی پارٹی میں انٹر پارٹی الیکشن نہیں کراسکتے، آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے، ہم اس جمہوریت اور آئین کے پاسبان ہیں، ہمیں آئین بتاتا ہے کہ کس طرح سے پارلیمان کی تبدیلی ممکن ہے، ہم نے کوئی غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدام نہیں کیا۔

اس موقع پرآغا رضا محمد کا کہنا تھا کہ یہ کسی کی ذاتی لڑائی نہیں تھی ہمارا حق تھا، یہ عوام کی جنگ تھی جو ہم نے لڑی۔ ہمیں بڑی بڑی پیشکشیں کی گئیں مگر ہم نے مسترد کر دیا۔

Jan ۱۲, ۲۰۱۸ ۰۸:۵۱ Asia/Tehran
کمنٹس