• پاکستان میں افغان مہاجرین کا قیام

پاکستانی اور افغانی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان افغان مہاجرین کے بارے میں ایسے اقدامات اٹھائے جس کے زریعے یہ مہاجرین باعزت طور پر اپنے ملک واپس جا سکیں اور ان کا پاکستانی عوام سے گہرا رشتہ بھی داغ دار نہ ہو

پاکستان نے افغان مہاجرین کو جلد از جلد اپنے وطن واپس جانے کا حکم دیا ہے۔ گذشتہ چالیس سالوں سے رہائش پذیر افغان باشندوں کو اب ایک سنجیدہ مشکل کا سامنا ہے اور اب انہیں اپنی اس نئی نسل کو واپس اپنے وطن لے کر جانا ہوگا جس نے شاید اپنی زندگی میں کبھی بھی مادر وطن کو دیکھا ہی نہ ہو۔

 

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی یہاں موجودگی سے ہمیں امن و امان کے سنگین مسائل درپیش ہیں اسی لئے افغان مہاجرین کو انکے وطن واپس بھیجنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔

 

افغان مہاجرین پاکستان کو اپنا ہی وطن سمجھتے ہیں اور یہاں کبھی بھی غربت کا احساس نہیں کرتے۔ یہاں ان افغان باشندوں نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ گذار دیا اور پاکستانی عوام کی مہمان نوازی نے انہیں کبھی یہ احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ وہ پرائے ملک میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر جگہ انکا پرتپاک استقبال کیا گیا اور بعض شہریوں نے تو انکے لئے اپنے گھروں کے دروازے تک کھول دیئے۔

 

اگر پاکستان کے ان علاقوں کا جائزہ لیا جائے کہ جہاں یہ افغان مہاجرین آباد ہیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس طرح پاکستانیوں نے مہمان نوازی کی اور ان مہاجرین کو رہنے کے لئے اپنے ہجرے بھی مفت فراہم کئے۔

ایک دوسرے کی ثقافت سے آشنائی نے ان افغان مہاجرین کو پاکستانیوں سے مزید نزدیک کردیا۔ اب یہ تعلق اتنا گہرا ہوچکا ہے کہ اس تعلق کو کوئی توڑ ہی نہیں سکتا۔

 

پاکستانی اور افغانی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان افغان مہاجرین کے بارے میں ایسے اقدامات اٹھائے جس کے ذریعے یہ مہاجرین باعزت طور پر اپنے ملک واپس جا سکیں اور ان کا پاکستانی عوام سے گہرا رشتہ بھی داغ دار نہ ہو۔

 

 

 

 

 

 

Feb ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۲:۲۶ Asia/Tehran
کمنٹس