• پاکستان، امریکا مردہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے کل 16 مئی کو یوم مردہ باد امریکہ کے طور پر منایا اور پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور مردہ باد امریکہ کے نعروں سے پاکستان کی فضا گونج اٹھی۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب پر 16 مئی یوم مردہ باد امریکا کے موقع پر احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں، بزرگوں، خواتین نے شرکت کرکے امریکا و اسرائیل سے اظہار بیزاری کیا۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ 16 مئی وہ دن ہے کہ جب کرہ ارض پر انسانیت کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش کو پروان چڑھایا گیا اور استکباری طاقتوں نے اسرائیل کو وجود بخشتے ہوئے انبیاء کی سرزمین مقدس پر فلسطین میں بسنے والے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں پر عرصئہ حیات تنگ کر دیا تھا، اور آج پھر اسی تاریخ کو ایک بار پھر دُہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اپنے سفارتخانے کی یروشلم (بیت المقدس) منتقلی قابل مذمت ہے۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عالم اسلام کے تمام حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور شیطان بزرگ و دشمن اسلام امریکا اور اسکے حواریوں سے اظہار برأت کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج امریکی ایماء پر اسرائیل فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا ہے لیکن مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام پر مسلمان ممالک کے حکمران خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبلہ اول کی پامالی کو کئی برس بیت گئے ہیں اور عالم اسلام کے حکمران اب تک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

 اس موقع پر علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ اسرائیل کو وجود میں لانے کا سب سے بڑا سبب امریکا اور برطانیہ ہیں، جو آج بھی اقوام متحدہ میں اس کے حامی اور پشت پناہ ہیں۔

علامہ باقر عباس زیدی نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اگر آج بھی اسرائیل کے خلاف متحد نہ ہوئے، تو انہیں مزید ظلم و بربریت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

علامہ صادق رضا تقوی نے کہا کہ آئی ایس او نے دنیا کو غاصب صیہونیوں کا اصل چہرہ دکھانے کے لئے ہر سطح پر احتجاج کیا، اس کا حکم ہمیں شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی نے دیا اور ان کے فرمان پر آئی ایس او نے لبیک کہا۔

جلسے کے اختتام پر امریکا اور اسرائیل کے پرچم بھی نذر آتش کئے گئے۔

ٹیگس

May ۱۷, ۲۰۱۸ ۰۹:۴۳ Asia/Tehran
کمنٹس