• کالا باغ ڈیم پر شھید حسینی کا نقطہ نظر !

ایک دن شہید عارف حسین الحسینی سے پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے جب یہ سوال کیا کہ علامہ صاحب کالاباغ ڈیم کے بارے میں آپ کا موقف کیا ہے؟ تو انہوں نے ایک بہترین اور غیرجانبدارانہ اور غیر سیاسی جواب دیا۔۔۔۔۔ ،

تحریر:  انور شاہین خانخیل

اس بات پر تو  ملک کے تمام صوبے اور تمام مذھبی اور سیاسی مکاتب فکر کے  لیڈر اور عوام  متفق ہیں کہ ((ہم نے اگر آئندہ برسوں میں کوئی اور ڈیم تعمیر نہ کیا تو پاکستان کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ ےگا۔))  اب اگر اختلاف ہے تو  وہ صرف جگہ کی تعین پر اور بالخصوص ((کالا باغ  ڈیم )) پر ہے۔  لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں پر ہر مسئلے کو سیاسی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس وقت  ہمارے ملک کو ایک ایسے ایماندار چیف جسٹس ملے ہیں کہ وہ مسائل جن کو حل کرنے کی ذمہ داری حکمرانوں کی تھی انہوں نے  ان مسائل کو حل کرنے  کے لئے کوششیں شروع کی ہیں کہ جن میں ایک مسئلہ کالا باغ ڈیم کا بھی ہے۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستان پر جنرل ضیاءالحق کی آمریت مسلط تھی جن کو امریکہ اور سعودی سمیت اکثر ممالک کی حمایت حاصل تھی  اور بہت کم  لوگ ان کے مقابلے میں آنے کی جرات کرسکتے تھے۔ جن میں کرم پارہ چنار سے تعلق رکھنے والے ایک پشتون لیڈر  شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی بھی تھے جنہوں نے جنرل  ضیاء الحق کو صاف الفاظ میں کہا تھا کہ (( جنرل صاحب ! تم امریکہ کی ایماء پر اسلام کو  غلط شکل میں پیش کرکے اسلام کا نام بدنام کرنا چاہتے ہو کہ ہم کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے ، ہم ملک میں امریکی اسلام نہیں بلکہ محمدی (ص) اسلام چاہتے ہیں اور ہم پاکستان کو امریکہ کی غلامی سے نکال کر اور اس میں محمدی (ص) اسلام نافذ کرکے دم لیں گے۔)) اور اس مقصد کے لئے وہ مختلف  مذھبی مکاتب فکر کے علماء کو  ساتھ ملانے  اور شیعہ سنی   سمیت تمام اسلامی مذاہب کے درمیان اختلافا ت کو  بالاے طاق رکھنے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکی استکبار کی سازشوں کے مقابلے میں ایک متحدہ پلیٹ فارم بنانے کی کوششوں میں دن رات لگے ہوئے تھے کہ امریکہ اور اس کے ایجنٹ ان کو برداشت نہ کرسکیں اور بالآخر شہید  کردیئے گئے۔

ایک دن علامہ مرحوم  سے پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہ بندہ بھی اس موقع پر موجود تھا ایک صحافی نے سوال کیا کہ علامہ صاحب کالاباغ ڈیم کے بارے میں آپ  کا موقف کیا ہے؟ تو انہوں نے ایک بہترین اور غیرجانبدارانہ اور غیر سیاسی جواب دیا اور کہا کہ ((کالا باغ ڈیم کا مسئلہ  سیاسی نہیں بلکہ  تکنیکی (ٹیکنیکل) مسئلہ ہے اور  اس بات سے  بھی انکار نہیں کہ کالا باغ ڈیم منصوبے کے فوائد بھی ہونگے اور نقصانات بھی تو اس مسئلے پرغورکے لئے ٹیکنیکل ماہرین پرمشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بنانا چاہئے جو جائزہ لے کہ اس منصوبے کے فوائد زیادہ ہیں یا نقصانات۔ اگر فوائد کے مقابلے میں نقصانات زیادہ ہیں تو کالاباغ ڈیم  ہرگز نہیں بننا چاہئے اورایک متبادل منصوبے پر کام شروع کرنا چاہیئے اور اگر نقصانات کے مقابلے میں فوائد زیادہ ہیں تو ضرور بننا چاہئے۔))

میرے خیال میں اس مسئلے کے حل کے لئے اس سے بہتر، غیر جانبدارانہ اور مخلصانہ تجویز اور نہیں ہو سکتی۔ تو موجودہ محترم چیف جسٹس صاحب کو کہ  جو عوام کی بہبود کے لئے سینے میں ایک دھڑکتا دل رکھتے ہیں چاہئے کہ خدا کے لئے کالا باغ ڈیم کے مسئلے کو  سیاسی لیڈروں اور پارلیمنٹوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں بلکہ جو تجویزعلامہ شہید نے کئ سال پہلے پیش کی تھی اس پرعملدرامد کرکے پاکستان کو پانی اور بجلی کے سنگین بحران سے نکال کر ثواب دارین حاصل کریں۔

----------

 

Jun ۱۳, ۲۰۱۸ ۱۶:۰۵ Asia/Tehran
کمنٹس