• خفیہ ایجنسی کے خلاف بات کرنے کی سزا عہدے سے برطرفی

سپریم جوڈیشل کونسل آف پاکستان کی سفارش پر ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے برطرف کردیا گیا۔

چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے صدر مملکت کو ارسال کی گئی سمری میں کہا گیا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی کو راولپنڈی بار کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے حساس ادارے کے خلاف بیان دیا، جسٹس شوکت نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جس کے بعد وہ اپنے عہدے پر رہنے کے اہل نہیں رہے۔

واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ ملکی خفیہ ایجنسی عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے اور خوف و جبر کی فضا کی ذمہ دار عدلیہ بھی ہے جبکہ میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے، میڈیا کی آزادی بھی بندوق کی نوک پر سلب ہو چکی ہے۔

ٹیگس

Oct ۱۲, ۲۰۱۸ ۰۷:۲۳ Asia/Tehran
کمنٹس