تحریر : حسین اختر رضوی

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ نوروز کی اہمیت و عظمت کے بارے میں فرماتے ہیں" "نوروز" پروردگار عالم کے حضور انسانوں کی جانب سے عبودیت و بندگی اور تواضع و انکساری کے اظہار کا وسیلہ ہے۔

عید نوروز، طراوت وتازگی، تحول و نشاط کا مظہر ہے ۔ یہ عید اسی طرح ایک دوسرے سے الفت و مہربانی، عزیز واقارب اور دوست واحباب کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے اور کینہ و بدگمانی دور کئے جانے کا مظہر ہے "رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں "عید نوروز" علاقے کے بعض ممالک میں صرف قدیمی عید ہے۔ ایران میں بھی قبل از اسلام عید نوروز ایک قدیمی عید تھی جو رسومات کے اعتبار سے بڑی زیبائیوں کی حامل تھی لیکن ان رسومات میں بعض خرافاتی امور بھی شامل تھے۔

ایران میں اسلام کے اثر و رسوخ پیدا کرنے کے بعد، ایرانیوں نے نوروز کی قدیمی عید کو ایک معنوی عید اور پروردگار عالم کی بندگی اور رضائے حق کے حصول کے ایک ذریعے میں تبدیل کر دیا۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اس بارے میں فرماتے ہیں۔"ہماری قوم کے لئے "نوروز"  خدا کی سمت توجہ دینے کا روز ہے ۔ تحویل سال کے شروعاتی لمحات میں ایرانی عوام دعائے تحویل سال پڑھتے ہیں ۔ " یامحول الحول والاحوال" کا ورد کرتے ہیں ، یاد و ذکر خدا سے نئے ہجری شمسی سال کا آغاز کرتے ہیں اور خدا کی جانب اپنی توجہ میں اضافہ کرتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ ہماری قوم عید نوروز کو  ایک دوسرے کے گھر جا کر ملنے، باہمی کینہ اور کدورت دور کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت و الفت کا سلوک روا رکھنے کا وسیلہ قرار دیتی ہے ۔ یہی بھائی چارہ، اسلامی ہمبستگی و مہربانی اور صلۂ رحم ہے ایرانی عوام اسی طرح نوروز میں، مقدس مقامات کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اور یہ بہت اچھا عمل ہے ۔

Mar ۱۶, ۲۰۱۷ ۱۸:۵۳ UTC
کمنٹس