تحریر: نوید حیدر تقوی

پاکستان کے شمالی علاقوں اور اس ملک کے صوبے خیبر پختونخوا کے عوام کی ایک بڑی تعداد قومی اور مذہبی انداز سے نوروز کی تقریبات منعقد کرتی ہے۔ ان علاقوں کے عوام رنگ برنگے پرچموں کو لہراتے اور چراغانی کے ساتھ نوروز کا استقبال کرتے ہیں اور جشن و سرور اور شعر و ادب کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔ پاکستان میں نوروز کو عالم افروز کہا جاتا ہے، یعنی تازہ و نیا دن کہ جس کے آتے ہی دنیا روشن و درخشاں ہوجاتی ہے۔

 پاکستان کے عوام نوروز کی آمد کے قریب اس کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں اور گھروں کی صفائی ستھرائی سے لے کر مہمان نوازی کے لئے مختلف قسم کی مٹھائیوں کا بندوبست کرنا شروع کردیتے ہیں جن میں گلاب جامن، برفی، کیک، سوہان حلوے کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ انواع و اقسام کے کھانے بھی ان ایام میں تیار کیے جاتے ہیں۔

 نوروز کے دن پاکستان میں خواتین نوروز کا دسترخوان سجاتی ہیں اور اس دسترخوان میں مختلف قسم کے پھولوں، مٹھیائیوں کے علاوہ قرآن مجید اور آئینہ بھی رکھا جاتا ہے۔ تحویل سال کے وقت نوروز کی مخصوص دعا اور قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔

 جبکہ خاندان کے بزرگ افراد چھوٹوں کو عیدی دیتے ہیں۔ نوروز کے ایام میں رشتے داروں کے گھروں پر آنے جانے کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے۔

 پاکستان کے عوام نوروز کے ایام کو نہایت ہی احترام کے ساتھ مناتے ہیں اور اس حوالے سے منعقد ہونے والی محفلوں میں نوروز کے حوالے سے اشعار پڑھے جاتے ہیں۔

پاکستان کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ نوروز کا مقصد، مہر و محبت کے پیغام کو عام کرنا اور عوام میں امیدواری پیدا کرنا ہے اور امن و آشتی کے ساتھ زندگی گزارنا بھی نوروز کے پیغاموں میں سے ایک ہے، کیونکہ بہار کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف سبزہ پھیل جاتا ہے اور زندگی میں رونق پیدا ہوجاتی ہے اور نوروز انسان کے لئے خوشبختی، دوستی اور محبت کے پیغام کو عام کرنے کا نام ہے۔

 

 

 

 

        

 

 

Mar ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۷:۱۱ UTC
کمنٹس