تحریر: م۔ ہاشم

فلسطینی قیدیوں سے متعلق تحقیقاتی مرکز نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور گزشتہ ایک مہینے میں ہی 480 فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔

دسمبر 2016 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صیہونی حکومت کے خلاف قرارداد پاس ہونے اور صیہونی کالونیوں کی تعمیر جاری رکھنے کی مذمت کئے جانے کے بعد اس غاصب حکومت نے خاص طور سے گزشتہ مہینے میں اپنے جرائم میں اضافہ کردیا۔ صرف مارچ کے مہینے میں 480 فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا گيا جن میں 75 بچے اور 16 عورتیں شامل ہیں۔ گرفتار شدگان میں تحریک حماس سے وابستہ فلسطین کی قانون ساز اسمبلی کے بعض نمائندے اور فلسطینی ملازمین بھی شامل ہیں۔ مارچ کے مہینے میں عمر قید کی سزا پانے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد بڑھ کر 500 ہوگئي ہے۔

علاوہ ازیں مارچ 2017 میں ہی غاصب اسرائيلی حکومت نے مقبوضہ اراضی پر صیہونی کالونیوں کی تعمیر جاری رکھی اور صیہونی کابینہ نے 30 مارچ کو، یوم الارض کے موقع پر، نئي صیہونی کالونی کی تعمیر کی منظوری بھی دی۔ واضح رہے کہ فلسطین میں یوم الارض، انیس سو اڑتالیس کے مقبوضہ علاقوں میں موجود فلسطینیوں کے قیام کی سالگرہ کا دن ہے۔  صیہونی حکومت نے 30 مارچ 1976  کو اپنے غاصبانہ قبضے کی تکمیل کے لئے مختلف بہانوں سے فلسطینیوں کی ہزاروں ہیکٹر اراضی کو غصب کرلیا تھا جس پر فلسطینیوں نے شدید احتجاج کیا تھا اور چھے فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔

در اصل قدس کی غاصب حکومت یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ بین الاقوامی قراردادیں بھی فلسطینیوں کے خلاف اس غاصب حکومت کی مجرمانہ کارروائيوں کو نہیں روک سکتیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ میں ٹرمپ حکومت کے قیام کے بعد جو موقع صیہونی حکومت  کے ہاتھ لگا ہے اس سے بھی وہ بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائيلی مظالم کے خلاف بیت المقدس کے یہودیوں نے بھی آواز بلند کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بیت المقدس میں سینکڑوں یہودیوں نے مظاہرہ کرکے فلسطینی اراضی پر صیہونی حکومت کے قبضے کی مذمت کی ہے۔ یہودی مظاہرین نے کہا کہ صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ اور مجرمانہ پالیسیاں علاقے میں قیام امن کے لئے سد راہ ہیں۔

 

 

 

 

 

Apr ۱۱, ۲۰۱۷ ۱۹:۰۱ UTC
کمنٹس