تحریر : ڈاکٹر آر نقوی

اگرچہ آل سعود دنیا بھر میں تکفیریت کو ترویج دیتے رہے ہیں تاہم ایک دلچسپ واقعہ سامنے آیا ہے جس میں دہشت گرد گروہ جماعت الاحرار کی جانب سے مسجد الحرام کے نائب امام جماعت کو کافر قرار دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تکفیریت کا لعنتی رجحان جس نے عرصہ دراز سے امت مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، کی جڑیں آل سعود کے پادشاہی نظام میں ہیں جس کی وجہ سے آل سعود تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کے باپ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

تکفیری گروہ اپنے علاوہ ہر ایک کو کافر قرار دیتا ہے اور اس کے قتل کا حکم دیتا ہے تاہم ایک دلچسپ بات جس کے سبب نائب امام کعبہ بھی اس سے نہ بچ سکا اور دہشت گرد گروہ جماعت الاحرار نے امام کعبہ کو بھی کافر قرار دیا۔

واضح رہے کہ یہ امر ذرائع ابلاغ کی توجہ کا سبب بنا ہے کہ گزشتہ دنوں صالح بن ابراہیم جمعیت علمائے اسلام (ف) پاکستان کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کے لئے پاکستان میں آئے اور انہوں نے مختلف ملاقاتوں میں پاکستان کے قوانین کو حقیقی اسلام کے مطابق قرار دیا۔

امام کعبہ کا یہی بیان تھا جس کی وجہ سے دہشت گرد گروہ جماعت الاحرار نے اپنے فرزند ہونے کی حرمت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہایت تند و تیز لہجے میں امام کعبہ کو کافر کہہ ڈالا۔

جماعت الاحرار کے ترجمان کے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر نائب امام کعبہ کے خلاف قرآن مجید کی روشنی میں جو دلائل پیش کئے ہیں وہ من و عن پیش خدمت ہیں :  (ملاحظہ فرمائے ====>>)

"جب اللہ رب العزت… اور امام کعبہ کے اقوال میں ٹکر ہوگی

 تومجھے تو میرے رب کا قول قبول ہے آپ بھی اپنی رائے دیں۔

 تمہیں کس کا قول قبول ہے اللہ کا یا امام کعبہ کا ؟

ومن یتولهم منکم فانه منهم

 پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہے

 میرے رب کا فرمان ہے کہ جو ان سے دوستی کرے وہ ان میں سے ہے

مگر یہاں قرآن کے مد مقابل امام کعبہ مشرف کو امیرالمؤمنین اور راحیل شریف پر فخر کرنے کا کہہ رہے ہیں۔

ومن لم یحکم بما انزل الله فاولئک هم الکافرون

 قرآن فرماتا ہے کہ جو اللہ کےنازل کردہ قانون پر فیصلہ نہ کرے وہ کافر ہے

 دوسرے جگہ انہیں ظالم اور خاسر کی صفات بھی دیئے ہیں

 جبکہ پاکستان میں نافذ قانون قرآنی نہیں بلکہ جمہوریت ہے

 اور آرمی چیف قمرباجوہ نے چند دن قبل ہی کہا کہ ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں

 جبکہ امام کعبہ پاکستانی قوم کو بے وقوف بنانے کے لئے پاکستان کواسلام کا محافظ کہہ رہے ہیں۔

ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان یذکر فیها اسمه

یہاں چند دن قبل ناپاک فوج نے بے حیائی کے میلہ پی ایس ایل

کے لئے مساجد و مدارس کو تالے لگائے تھے

 تو قرآن اور امام کعبہ پھر سے ٹکر میں ہیں۔

 قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم الجھاد ماضٍ الی یوم القیامہ

 جب یہ سب لوگ امام کعبہ کےنزدیک مسلمان اور حکومت پاکستان اسلام کا نمونہ ہے

 اور جولوگ پاکستان میں نفاذ شریعت کی خاطر لڑ رہے ہیں امام کعبہ کے نزدیک دہشت گرد ہیں

 تو آلہ نفاذ شریعت جھاد مقدس جس کا ہمیں ہمارے رب نے حکم دیا ہے۔

واعدوا لھم ماستطعتم ② 《انفروا خفافاً》 ( الی آخرالآیہ) ③ 《 قاتلوہم حتی لاتکون فتنة》 (الآیه) ④《قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم》 الآیہ

 یہ بھی ان کےنزدیک دہشتگردی ہی ہوگی۔

 جس کے بارے میں امام کعبہ فرماتے ہیں کہ پاکستان نے بڑی تیزی سے دہشت گردی پر قابو پایا

 مگر میرے نبی کا فرمان ہے (( الجھاد ماضٍ الی یوم القیامہ ))

 تواس پر نا پاک آرمی کا باپ امریکہ اور روس بھی قابو نہیں پاسکتے

 قرآن وحدیث کےمقابل میں ہمیں کسی کا قول قابل قبول نہیں!

 قال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (( لاطاعت لمخلوقٍ فی معصیت الخالق((

 اب پتہ چلے گا کون اللہ کا قول لے کر حکومت پاکستان کو کافر سمجھے گا۔

 اور کون امام کعبہ کا قول لے کر حکومت پاکستان کو اسلام کا نمونہ سمجھے گا "۔

والسلام

عمرخراسانی

 

Apr ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۹:۲۷ UTC
کمنٹس