تحریر : ڈاکٹر آر نقوی

کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ابھی بات کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تھی کہ امریکہ نے شام کے صوبۂ حمص میں واقع ایئر بیس پر میزائل حملہ کردیا۔ شام پر امریکہ کے اس میزائلی حملے نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ امریکہ کسی بھی بین الاقوامی قانون کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایسی حالت میں شام پر حملے کا حکم صادر کیا کہ اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل نے اس بارے میں کسی طرح کی کوئی قرارداد پاس نہیں کی اور سلامتی کونسل کی قرارداد کے بغیر کسی دوسرے ملک پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔

دوسری طرف امریکی کانگریس نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کو اس حملے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ امریکی صدر کے پاس ملک کو درپیش کسی فوری خطرے کے پیش نظر ہنگامی طور پر حملے کا حکم جاری کرنے کا استحقاق موجود ہے لیکن اس کے لئے بھی کانگریس کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔

شام پر حالیہ حملہ صرف کانگریس کی اجازت کے بغیربلکہ اس حملے کی جو وجہ قرار دی گئی ہے اس سے امریکہ کی سلامتی کو کسی طرح کا کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔ شام کی حکومت پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام امریکہ کے داخلی اور خارجہ سلامتی کے لئے ہرگز خطرہ نہیں ہے۔

مزید یہ کہ کسی  ملک میں بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا جواب دینے کے لئے سلامتی کونسل کی اجازت ضروری ہے اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی ملک پر کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ بناکرچڑھ دوڑے اور بین الاقوامی پولیس کا کردار ادا کرے۔

کسی بھی ملک پر حملے کے لئے عالمی برادری کو اعتماد میں لینا نیز سلامتی کونسل کی منظوری ضروری ہے۔بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ عالمی قوانی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور امریکہ کی یکطرفہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔

امریکی صدر نے ایسے عالم میں شام پر میزائلی حملے کا حکم صادر کیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اپنے صدارتی انتخابات کے اسکینڈل میں بدستور گرفتار ہے اور اس پر الزام ہے کہ وہ روس کی سیاسی اور انٹیلجنس حمایت سے اقتدار تک پہنچا ہے ۔

بعض تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی تحقیقات کا نتیجہ یہ بھی برآمد ہوسکتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف کانگریس میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کردی جائے۔

اس وقت امریکی معاشرے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے عنوان سے دو حصوں میں تقسیم ہے لہذا اس خلیج اور اختلاف کو دور کرنے کے لئے امریکی پالیسی سازوں نے ادلب پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا بہانہ بنا کر شام پر حملے کی سازش رچی ہے تاکہ امریکی معاشرے میں وحدت اور اتحاد پیدا ہوسکے۔

 

Apr ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۹:۲۷ UTC
کمنٹس